خطبات محمود (جلد 22) — Page 194
خطبات محمود 195 1941 لڑائی کے بعد ہم پھر اپنے حقوق کا سوال پیدا کر دیں گے۔مگر موجودہ صورت حالات ایسی ہے کہ میں خیال کرتا ہوں اگر اس جنگ کے دوران انگریز حکام ہماری مذہبی آزادی میں بھی دست اندازی کریں جیسا کہ مجھے بعض حکام کی نیتوں کے بارہ میں خوف ہو رہا ہے کہ وہ ایسا کریں گے تب بھی ہم ان کی اس دست اندازی کو برداشت کریں گے۔ہاں جنگ کے بعد ہم ان سے قطع تعلق کر لیں گے۔۔پس میرے نزدیک اگر اس وقت وہ ہماری مذہبی آزادی میں بھی دخل اندازی کریں (ایسی دخل اندازی نہیں جس سے ہمیں اپنا مذہب چھوڑنا پڑے) تو ہم اس کو برداشت کر لیں گے۔البتہ جنگ کے بعد اپنے مذہب کی تائید میں شریعت کے قوانین کے اندر رہ کر ہمار اجو بس چلے گا ہم کریں گے۔لیکن اگر یہ صورت نہ ہو اور وہ ہمارے مذہب میں کسی قسم کی دست اندازی نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں باوجود ان کی کئی قسم کی مخالفتوں کے ہمارا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی فرض یہ ہے کہ اگر مال کے ساتھ انگریزوں کی مدد کر سکتے ہوں تو مال کے ساتھ مدد کریں، زبان کے ساتھ مدد کر سکتے ہوں تو زبان سے مدد کریں، قلم سے مدد کر سکتے ہوں تو قلم سے مدد کریں، وقت کی قربانی کر کے مدد کر سکتے ہوں تو وقت کی قربانی کر کے مدد کریں اور اس طرح ایسا ماحول پیدا کر دیں جو انگریزوں کی فتح کا موجب بن جائے۔کل میری ہدایت کے ماتحت قادیان میں بھی دوستوں نے روزہ رکھا باہر کی جماعتوں نے بھی روزے رکھے ہوں گے۔قادیان میں میں نے گنتی کرائی تھی جس سے مجھے معلوم ہوا کہ قادیان کے چار پانچ سو آدمیوں نے روزہ رکھا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں شاید ہی کسی اور جگہ حکومت برطانیہ کی کامیابی کے لئے اتنے لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا ہو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی ہوں۔مگر میں بھی سمجھتا ہوں کہ قادیان کی آبادی کے لحاظ سے یہ تعداد بہت کم ہے۔بہت دوستوں کو یا تو روزہ رکھنا یاد نہیں رہا یا انہوں نے اس روزہ کی اہمیت کو پورے طور پر ہے اور