خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 184

1941 185 خطبات محمود مکہ پر قبضہ کر لے۔جس دن ایسے بے حیا اور بے غیرت مسلمان پیدا ہو جائیں گے اس دن وہ بے شک مکہ پر قبضہ کر سکے گا۔لیکن جب تک مسلمانوں کی غیرت اس امر کو برداشت نہیں کرے گی اس وقت تک اگر ان میں ذرا بھی عقل کا مادہ ہوا تو وہ فیسی ازم یا نازی ازم کو کبھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔انسانی خیالات بدلتے رہتے ہیں اگر کوئی شخص یہ ثابت کر دے کہ ہٹلر نے اب ان خیالات سے توبہ کر لی ہے تو ہم بھی اپنی اس رائے کو بدل لیں گے لیکن بغیر اس کے کہ کسی کو ذاتی علم یا دلائل کی بناء پر یہ دعویٰ ہو کہ ہٹلر ان خیالات کا موید نہیں۔اگر کوئی مسلمان یا احمدی ان واقعات کی موجودگی میں ہٹلر سے ہمدردی رکھتا ہے تو میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ وہ یا تو پرلے درجہ کا احمق ہے اور یا پھر پرلے درجہ کا منافق انسان ہے۔باوجود اس کے کہ گزشتہ چھ سات سال سے پنجاب میں بعض انگریز افسروں کے ہمارے ساتھ اچھے تعلقات نہیں، باوجود اس کے کہ انہوں نے ہمارے متعلق شدید بے انصافیاں کی ہیں او رباوجود اس کے کہ انہوں نے ہمیں نقصان پہنچانے کی پوری پوری کوشش کی ہے میں اس قسم کی حماقت کا ارتکاب نہیں کر سکتا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پرائے شگون میں اپنا ناک کٹوانا۔ہندوؤں میں یہ رواج ہے کہ بعض قسم کی عورتیں اگر نکاح یا شادی یا زچگی کے موقع پر آ جائیں تو وہ برا مناتے اور اسے اپنے لئے بدشگونی سمجھتے ہیں۔مثلاً جس عورت کا بچہ تازہ مرا ہوا ہو اگر وہ زچگی کے ایام میں کسی دوسرے کے گھر ایسی تقریب میں چلی جائے تو اسے منحوس خیال کیا جاتا ہے۔اسی طرح اگر شادی بیاہ کے موقع پر کوئی نکئی عورت آ جائے تو اسے بھی وہ اپنی نحوست کی علامت سمجھتے ہیں۔اسی رواج کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک احمق عورت تھی اس کی کسی دوسری عورت سے لڑائی ہو گئی۔اتفاقاً چند دنوں کے بعد دوسری عورت کے ہاں کوئی شادی کی تقریب آگئی۔اس نے سوچا کہ بدلہ لینے کا طریق یہ ہے کہ میں اپنا ناک کٹوا کر