خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 181

خطبات محمود 182 پیران 1941 آج کے جمعہ سے ایک دن پہلے جمعرات کو تمام دوست روزہ رکھیں اور تہجد میں خاص طور پر ان فتن کے متعلق دعائیں کریں جو موجودہ جنگ میں پوشیدہ ہیں اور نماز جمعہ کی آخری رکعت میں رکوع سے قیام کے وقت سب دوست اجتماعی طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے دنیا کو بچائے۔اسلام اور احمدیت کو محفوظ رکھے اور ہماری جماعت کو بھی ہر قسم کے شرور اور مفاسد سے محفوظ رکھ کر ترقی اور کامیابی عطا کرے۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے اور اس دن بھی اختصاراً بیان کیا تھا موجودہ فتنہ میں جہاں تک عقل کام کرتی ہے اور جہاں تک حقائق ہمارا ساتھ دیتے ہیں انگریزی حکومت کی فتح اسلام اور احمدیت کے لئے زیادہ مفید نظر آتی ہے۔کیا بلحاظ اس کے کہ انگریزی حکومت کے قوانین کے اندر یہ امر مخفی ہے کہ لوگوں کو مذہبی آزادی ملنی چاہئے اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس وقت تک وہ ایک حد تک اس پر عمل بھی کرتی رہی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس نے اس کے خلاف کبھی عمل نہیں کیا۔میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اس نے کھلے بندوں مذہب میں کبھی دست اندازی نہیں کی۔اس کے خلاف گو ہمیں واقعات پورے طور پر معلوم نہیں تاہم میں نے ہٹلر کی کتاب پڑھی ہے اور اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب میں دست اندازی کو جائز سمجھتا ہے۔اگر یہ بات محض روائتوں تک محدود ہوتی تو میں سمجھ لیتا کہ ممکن ہے یہ روائتیں غلط ہوں۔یا ممکن ہے ان کے بیان کرنے میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہو مگر اس بات کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ اس نے خود اپنی کتاب مائنے کامف میں لکھا ہے کہ ایسے مذہب کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا جس میں تفصیلی شرعی قوانین موجود ہوں اور جو اس طرح عملاً حکومت کے ہاتھوں کو بند کرتا ہو اور کہتا ہو کہ یہ قانون بناؤ اور وہ قانون نہ بناؤ۔جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسلام اور یہودی مذہب اور اسی طرح کے وہ تمام مذاہب جن میں ایسے احکام بیان کئے گئے ہیں جو انسانی زندگی کے ساتھ