خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 151

1941 152 خطبات محمود بے شک جرمنی بھی خطرہ میں ہے کیونکہ انگلستان اور امریکہ کو اگر طاقت حاصل ہو گئی تو جرمنی اور اٹلی کی اپنی ترقی کی خواہیں سب باطل ہو جائیں گی مگر جو چیز ان کے ہاتھ سے جاتی ہے وہ ایسی نہیں کہ آج کی بجائے کل بھی کام آنے والی ہو یا ایسی نہیں کہ وہ زندگی کے بعد بھی کام آنے والی ہو مگر جس مال اور جس دولت کی حفاظت کے لئے احمدیت کھڑی ہے وہ ایسی ہے کہ وہ آج ہی کام آنے والی نہیں بلکہ کل بھی کام آنے والی ہے اور وہ دنیا میں ہی کام آنے والی چیز نہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آنے والی چیز ہے۔پس جس مال کی حفاظت کے لئے احمدیت کھڑی ہے وہ بہت زیادہ قیمتی ہے بہ نسبت ان چیزوں کے جن کی حفاظت کے لئے دنیا کی حکومتیں برسر پیکار ہیں۔اور جتنی زیادہ کوئی چیز قیمتی ہوتی ہے اتنی ہی اس کی حفاظت بھی زیادہ ضروری ہوتی ہے۔وہ چیز جو انسان کو آج ہی فائدہ دے سکتی ہے کل نہیں، اس ہو کے متعلق ایک انسان اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے سکتا ہے کہ اگر وہ ضائع تو کیا ہوا؟ آج میں تکلیف اٹھا لوں گا کل تو آرام سے گزرے گا۔اسی طرح صرف کل فائدہ پہنچانے والی ہو اس کے ضائع ہونے پر بھی ایک انسان کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے سکتا ہے کہ آج آرام سے گزر رہا ہے پرسوں بھی آرام سے گزرے گا درمیان میں ایک دن اگر تکلیف آتی ہے تو اسے برداشت کر لوں گا مگر جو چیز آج اور کل اور پرسوں اور ہر کل اور پرسوں کو کام آنے والی ہو اور انسان کا تمام مستقبل اس کے ساتھ وابستہ ہو اسے وہ آسانی کے ساتھ ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔وہ سمجھے گا کہ اگر یہ چیز ضائع ہو گئی تو میرا آج کا دن بھی مصیبت سے گزرے گا، کل کا دن بھی مصیبت سے گزرے گا ، پرسوں کا دن بھی مصیبت سے گزرے گا ، اترسوں کا دن بھی مصیبت سے گزرے گا اور ہر آنے والا دن میرے لئے تکلیف دہ ہو گا۔پھر انسان بعض دفعہ یہ خیال بھی کر سکتا اگر میری زندگی کے دن ہی مصیبت سے گزریں تو بھی میں انہیں گزار لوں گا۔کم از کم میری اولاد تو اس مصیبت سے حصہ نہیں لے گی لیکن اگر کوئی چیز ایسی ہو جس کے