خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 108

$1941 خطبات محمود 108 کا وہ یہ کہ اب دور دور کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اوران میں سے اکثر کو اب اسلامی مسائل اتنے معلوم نہیں جتنے پہلے لوگوں کو معلوم ہوا کرتے تھے۔اب وہ صرف ہمارے افعال کو دیکھتے ہیں اور جس رنگ میں وہ ہمیں کوئی کام کرتے دیکھتے ہیں اسی رنگ میں خود کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی اسلام لوگ چونکہ مدینہ میں بہت کم جاتے ہیں اور انہیں وہاں رہ کر ہماری نمازیں دیکھنے کا موقع نہیں ملتا اس لئے میں نے خیال کیا کہ اب حج کے موقع پر اگر انہوں نے مجھے دو رکعت نماز پڑھاتے دیکھا تو اپنے اپنے علاقوں میں جاتے ہی کہنے لگ جائیں گے خلیفہ کو ہم نے دو رکعت نماز پڑھاتے دیکھا ہے۔اس لئے اسلام کا اصل حکم یہی ہے۔اس ، کہ دو رکعت نماز پڑھی جائے اور لوگ چونکہ اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ یہ دو رکعت نماز سفر کی وجہ سے پڑھی گئی ہے اس لئے اسلام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا اور لوگوں کو ٹھوکر لگے گی۔پس میں نے مناسب سمجھا کہ چار رکعت نماز پڑھا دوں تاکہ نماز کی چار رکعتیں انہیں بھولیں نہیں۔باقی رہا یہ کہ میرے لئے چار رکعت پڑھانا جائز کس طرح ہو گیا سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے یہاں شادی کی ہوئی ہے اور چونکہ بیوی کا وطن بھی اپنا وطن ہی ہوتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میں مسافر نہیں ہوں اور مجھے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔غرض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعت نماز پڑھانے کی یہ وجہ بیان فرمائی اور اس توجیہہ کا مقصد آپ نے یہ بتایا کہ باہر کے لوگوں کو دھوکا نہ لگے اور وہ اسلام کی صحیح تعلیم کو سمجھنے میں ٹھوکر نہ کھائیں۔ان کی یہ بات بھی بڑی لطیف تھی اور جب صحابہ نے تو اکثر سمجھ گئے اور بعض نہ سمجھے مگر خاموش رہے۔مگر دوسرے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان نے رسول کریم صلی امی کی سنت کے خلاف عمل کیا ہے۔چنانچہ انہی میں سے کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس بھی پہنچے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا کہ آج کیا ہوا۔رسول کریم صلی لی کام کیا کیا کرتے تھے اور عثمان نے آج کیا کیا۔رسول کریم صلی ا لم تو حج کے دنوں میں مکہ آکر صرف دور کے لعتیں