خطبات محمود (جلد 21) — Page 84
$1940 84 خطبات محمود ہو رہی تھیں مگر سامان نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہ ہو سکتی تھیں اور بہت اہمیت رکھتی ہیں تو جماعت کو اس کام کا احساس ہو سکے گا۔اس وقت تک جو مبلغ تیار کئے گئے ان میں اس امر کو مد نظر نہیں رکھا گیا کہ ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کرنی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ بہت سے کارآمد اور مخلص وجو د نکلے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے بار بار توجہ دلانے کے جامعہ احمد یہ ایسے طالب علم تیار نہیں کر سکا جو علاوہ مذہبی علوم کے ایسی زبانیں بھی جانتے ہوں جو دنیا میں تبلیغ کے لئے مفید ہو سکیں اور جن کے بغیر ساری دنیا میں تبلیغ نہیں کی جاسکتی۔اس وقت تک جو مبلغ جامعہ تیار کرتا ہے وہ یا تو عرب میں کام کر سکتے ہیں یا پھر پنجاب اور یوپی میں۔کیونکہ یہی صوبے ہیں جن میں اردو اچھی طرح بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ان کے علاوہ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بھی مثلاً مدراس بنگال، بمبئی اور آسام وغیرہ میں وہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں کے لوگ اردو بہت کم جانتے ہیں۔اس لئے وہاں ان مبلغوں کا حلقہ عمل بہت محدود ہوتا ہے۔اتنی اردو تو وہ لوگ جانتے ہیں کہ چھوٹی موٹی بات سمجھ سکیں مگر اتنی نہیں کہ تقریریں سمجھ سکیں۔سمندر کے سفر میں میں نے دیکھا ہے کہ بندر گاہوں پر آباد ہندو اور مقامی لوگ بھی ٹوٹی پھوٹی اردو بول اور سمجھ لیتے ہیں مگر اتنی نہیں جانتے کہ اردو میں تقریریں سمجھ لیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدراس، بنگال، بمبئی ، مالا بار اور بمبئی کے دوسرے علاقوں کے لوگ جب لیکچرار مانگتے ہیں تو ساتھ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ انگریزی خوان مبلغ بھیجے جائیں۔مگر ہم ایسے مبلغ نہیں دے سکتے اس وجہ سے ان علاقوں میں ہماری تبلیغ بہت محدود رہ گئی ہے اور صرف پنجاب اور اس کے ارد گرد کے علاقہ پر ہی زور ہے۔حالانکہ جس طرح پنجاب میں ایسی روحیں ہیں جو صداقت کے لئے اپنے دل میں تڑپ رکھتی ہیں اسی طرح دوسرے ملکوں اور علاقوں میں بھی ضرور ہیں لیکن ان علاقوں میں جب ہمارے مبلغ جاتے بھی ہیں تو تبلیغ کا دائرہ بہت محدود ہو تا ہے۔ابھی ایک مبلغ برما میں بھیجا گیا ہے جو جامعہ احمدیہ کا فارغ التحصیل ہے اور وہ مفید کام بھی کر رہا ہے۔مگر متواتر اپیل پر اپیل آرہی ہے کہ کوئی انگریزی دان مبلغ یہاں بھیجا جائے تو بہت اچھا ہو کیونکہ یہاں ایک بہت بڑا طبقہ انگریزی دانوں کا ہے جن تک موجودہ مبلغ نہیں پہنچ سکتا۔