خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 438

$1940 437 خطبات محمود کے موقع پر یہاں آتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے گاؤں میں ہمارے لئے بڑا امن ہے۔اگر ہم سکھوں کے دشمن ہوتے تو ان دیہات میں ان سے بُر اسلوک کیوں نہ کرتے ؟ پس ہر شریف سکھ اور ہندو کا فرض ہے کہ ان باتوں کی تردید کرے۔وہ اس امر کے عینی شاہد ہیں کہ ہم کسی پر کوئی ظلم نہیں کرتے۔صا الله سة اس موقع پر میں جماعت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ اشتعال میں ہر گز نہ آئے۔سکھوں کو ایک یہ رعایت حاصل ہے کہ ہم ان کے گروؤں کو بزرگ سمجھتے ہیں اور اس لئے ان کو بُرا نہیں کہہ سکتے۔ہمارے بزرگوں کو وہ جو گالیاں دیتے ہیں ان کا غصہ اتارنے کا یہی طریق ہو سکتا تھا کہ ہم بھی ان کے بزرگوں کو انہی الفاظ سے یاد کرتے مگر ہم تو حضرت بابا نانک کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ہم ان کو گالی کس طرح دے سکتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ دو بھائی آپس میں لڑیں۔ایک ماں کی گالی دے تو دوسرا اس کا جواب نہیں دے سکتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری گالی میری ماں کو لگے گی۔پس ہمیں یہ مجبوری ہے۔یہ بہت بیوقوفی ہو گی کہ ایک طرف تو ہم اپنے بزرگوں کو سکھوں سے گالیاں دلوائیں اور پھر خود اپنے بزرگوں کو گالیاں دیں۔پس ان حالات میں ہمارے لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں کیونکہ بدلہ کا جو طریق ہے اسے ہم اختیار نہیں کر سکتے۔ہم رام اور کرشن کو اپنا بزرگ سمجھتے ہیں۔ہندو ر سول کریم صلی لیکم کو گالیاں دیتے ہیں مگر ہم ان کے بزرگوں کو گالی نہیں دے سکتے کیونکہ وہ ہمارے بھی بزرگ ہیں۔پس ہمارے لئے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔جب ہم اپنے کسی بزرگ کو گالی سنتے ہیں اور غصہ کے باوجود ان کے کسی بزرگ کو گالی اس لئے نہیں دیتے کہ خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ کی اس طرح ہتک ہوتی ہے۔تو ہمارا خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا۔پس ہمارے لئے افسردگی کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ہم نے غصہ کے باوجود خدا تعالیٰ کے لئے اپنی زبان کو روکا اور اس وقت گالی نہ دی جب ہم دے سکتے تھے۔محض اس وجہ سے کہ اس سے خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ کی تو ہین ہوتی ہے اور اس صبر کا اجر ہمیں اللہ تعالیٰ ضرور دے گا۔پس صبر کرو اور دوسروں سے پہلے سے بھی زیادہ محبت کا مظاہرہ کر و۔ممکن ہے تم میں سے کسی نے پہلے کسی ہندو یا سکھ سے بُرا سلوک کیا ہو۔اگر ایسا ہے تو آئندہ بہت احتیاط کرو۔قادیان کے حالات جیسا کہ میں نے