خطبات محمود (جلد 21) — Page 429
$1940 428 خطبات محمود تاوان لگایا گیا اور اسے موجودہ مہاراجہ کے دادا کے ذمہ لگا کر یہ علاقہ دے دیا گیا۔اور پھر تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ روپیہ ادا بھی ہوا۔ممکن ہے کچھ ہوا ہو اور جب کشمیر جیسابڑا علاقہ ایک کروڑ میں بکا تو قادیان کے ارد گرد دس میل کا علاقہ جسے آج جبکہ موٹر کاریں اور گاڑیاں ایجاد ہو چکی ہیں انسان پھونک مار کر پار کر جاتا ہے تین کروڑ میں لے کر کوئی کیا کرے گا۔دس میل کے علاقہ کی آبادی میرے نزدیک 30-35 ہزار ہو گی۔زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار سہی۔اس سارے ضلع کی آبادی دس لاکھ ہے۔اس میں سے احمدیوں کی آبادی تو بہت ہی تھوڑی ہے۔اس دس میل کے علاقہ میں احمدی میرے نزدیک بارہ تیرہ ہزار یا زیادہ سے زیادہ چودہ ہزار ہوں گے جو ساری آبادی کا چوتھا یا تیسر ا حصہ ہو گا۔اور ظاہر ہے کہ اتنی اقلیت ایسی کثرت پر حکومت کیونکر آسانی کے ساتھ کر سکتی ہے۔اس زمانہ میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جو ملک تباہ ہوئے ہیں انہیں غیر ملکی اقلیتوں نے ہی تباہ کیا ہے اور ایسی اقلیتیں جو ان کی تباہی کا باعث بنیں ہیں فیصدی سے زیادہ نہ تھیں۔مگر انہوں نے حکومت کا قافیہ ایسا تنگ کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ان حالات میں احمدی کیونکر یہ امید کر سکتے ہیں کہ اتنی بڑی اکثریت پر کامیابی سے حکومت کر سکیں گے۔ہم پر الزام لگانے والے ذرا خود سوچیں کہ وہ کیا چیز پیش کر رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ میں نے اس سے انکار کیوں نہیں کیا۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہمیں ایسی بات کی تردید کی ضرورت کیا ہے جو ہو ہی نہ سکتی ہو۔اگر کل کو کوئی کہہ دے کہ میں نے ہٹلر کو گھر میں چھپارکھا ہے تو کیا میر افرض ہے کہ اس کی بھی تردید کروں۔ایسی باتیں ملک میں بدامنی کا موجب ہوتی ہیں۔اور قیام امن کا ذمہ دار میں نہیں حکومت ہے۔اور اس کا جواب دینا اس کا فرض تھا اور تردید بھی اسے کرنی چاہیئے تھی۔ہم اگر کہیں کہ ہم ریاست نہیں لیتے تو افسر کہہ سکتے ہیں کہ بیو قوفو تمہیں دیتا کون ہے۔پس نہ تو ہم مانگتے ہیں اور نہ کوئی دیتا ہے۔اس لئے ہم انکار کیوں کریں۔ہاں حکومت کا فرض تھا کہ اعلان کرتی کہ یہ بات غلط ہے۔مجھے تعجب ہے کہ سکھوں میں کئی ایسے لوگ ہیں جو موجودہ کانسٹی ٹیوشن کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ انگریزوں کو یہ حق ہی نہیں کہ کسی کو کوئی علاقہ دے دیں۔صرف وزراء کی مرضی سے ہی ایسا ہو سکتا ہے۔آخر یہ کوئی مذ ہی بات تو ہے نہیں بلکہ قانون کا سوال ہے۔اور ان کے ہاں بھی