خطبات محمود (جلد 21) — Page 428
خطبات محمود 427 $1940 قانون ہو۔یا تو ہر جگہ ہر قوم کے جلوس کو سب رستوں سے گزرنے کی اجازت ہونی چاہیئے اور یا پھر قادیان میں بھی رستے مقرر ہونے چاہئیں۔اگر امن عامہ کے پیش نظر باہر جلوسوں کے رستوں کو مقرر کرتے وقت وہ بعض اصول مد نظر رکھتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قادیان میں ان اصولوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔سب جگہ کے لئے ایک ہی قاعدہ ہو اور سب کو اطلاع دے دی جائے کہ یہ دستور ہے۔ہم اقلیت میں ہیں۔وہ جو بھی قاعدہ مقرر کرے اس پر اعتراض کا ہمیں کوئی حق نہیں اور ہمیں منظور ہو گا۔خواہ وہ یہ کر دے کہ ہر جگہ ہر قوم کے جلوس کو ہر بازار سے گزرنے کا حق ہے۔اور یا پھر یہ کہ بعض شرائط کے ماتحت رستے مقرر ہو سکتے ہیں۔ہماری طرف سے اس کے متعلق کوئی مطالبہ نہیں لیکن یہ ضرور ہونا چاہیے کہ ہر جگہ ایک ہی قانون ہو۔یہ درست نہیں کہ لکھنو ، کلکتہ، میرٹھ ، لاہور یا امر تسر کے لئے تو قانون دوسرا ہو اور قادیان کے لئے دوسرا۔دوسری بات جو اس ضمن میں میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس کا نفرنس کے متعلق جو اشتہار شائع کیا گیا اس میں ہم پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ہم قادیان کے نواحی علاقہ میں دس دس میل تک اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے حکومت کو تین کروڑ روپیہ دیا جائے گا۔بعض نے احتیاط کی تو یہ کہا ہے کہ ایک کروڑ دیا جائے گا۔ہماری مالی حالت ظاہر ہے۔ہمارا بجٹ مجلس شوریٰ میں پیش ہوتا ہے اور اس پر بحث کی جاتی ہے۔وہ کوئی مخفی چیز نہیں۔اور اسے دیکھ کر ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اس وقت بھی جماعت پر دولاکھ سے زیادہ روپیہ کا بار ہے۔اور اس کی وجہ سے ہم کارکنوں کا قلیل معاوضہ بھی جو گزارہ کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے بعض اوقات تین تین یا چار چار ماہ تک ادا نہیں کر سکتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو قرض لے کر۔اور اگر قرض نہ لیا جائے تو شاید ایک سال کی تنخواہیں بقایا میں رہیں۔ان حالات میں کوئی عظمند کہہ سکتا ہے کہ ہم تین کروڑ یا ایک کروڑ ہی حکومت کو دے سکتے ہیں۔پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت اس طرح کروڑوں روپے لے کر علاقے دیا کرتی ہے۔کیا اس کی کوئی ایک مثال بھی پائی جاتی ہے ؟ جب تک تو انگریزی حکومت با قاعدہ قائم نہیں ہوئی تھی اس وقت تو بعض ایسے سودے ہوئے ہیں مثلاً کشمیر کا صوبہ ایک کروڑ روپیہ میں دے دیا گیا تھا۔سکھوں پر پر