خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 375

$1940 خطبات محمود 374 رسول کریم صلی الم نے فرمایا سارا سال روزے رکھنے جائز نہیں ہیں۔انہوں نے کہا اچھا تو پھر میں مہینہ میں سے دس دن چھوڑ دوں گا۔آپؐ نے فرمایا یہ بھی جائز نہیں۔آخر ان کے بڑے اصرار اور بار بار کہنے کے بعد رسول کریم صلی اللہ ہم نے انہیں صرف اتنی اجازت دی کہ ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور دوسرے دن نہ رکھا کرو۔جب وہ بوڑھے ہو گئے تو وہ کہا کرتے تھے کہ کاش میں رسول کریم صلی اللی کالم کے حضور ایسی گستاخی کا ارتکاب نہ کرتا کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مجھے اپنے عہد کو نباہتے ہوئے التزام کے ساتھ ہر دوسرے دن روزہ رکھنا پڑتا ہے مگر اب میری قوت اس بوجھ کو برداشت نہیں کرتی۔2 تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پندرہ سال کی عمر میں ہی ایسے مضبوط قوی تھے کہ وہ سمجھتے تھے میں اگر سارا سال بھی روزے رکھتا چلا جاؤں تو رکھ سکتا ہوں۔ایسی قوتیں رکھنے والا اگر آج بھی کوئی نوجوان موجود ہو اور وہ ابھی اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچا ہو تو اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی رمضان کے سارے روزے رکھ سکتا ہے۔اور اس کا یہ کہنا کہ میں نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے کوئی نوجوان سارے روزے نہ رکھے سخت نادانی اور حماقت ہو گی۔اگر تو روزہ ایک چپٹی ہو تو پھر تو اسے بے شک بہانوں سے ٹالا جا ہے لیکن اگر روزہ خدا تعالیٰ کا فضل، احسان اور انعام ہے تو پھر اس کو چھوڑنے میں اسی کا ستا ؟ نقصان ہے جو روزہ رکھنے سے گریز کرتا ہے۔پس یا درکھو میر افتویٰ گناہ کے متعلق ہے۔یعنی ایسا انسان جو ابھی بلوغت تامہ کو نہیں پہنچاوہ محض کمزوری کی وجہ سے اگر روزہ چھوڑتا ہے تو وہ گناہ گار نہیں لیکن بلوغت تامہ کے بعد صرف کمزوری کے خوف سے اگر کوئی ایک روزہ بھی چھوڑتا ہے تو وہ گنہگار ہے۔وہ صرف اس کمزوری کی وجہ سے روزہ چھوڑ سکتا ہے جس کا لازمی نتیجہ بیماری ہو ورنہ اگر کسی کے قویٰ اچھے ہوں اور روزوں سے اسے کوئی تکلیف نہ ہوتی ہو تو چاہے وہ اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچا ہو اُسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک عورت نے اپنے ایک عزیز کے متعلق جو گیارہ بارہ سال کا ہے مجھ سے پوچھا کہ وہ روزے رکھتا ہے اور منع کرنے سے باز نہیں آتا اور یوں اس کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں تو کیا ہم اسے روزے رکھنے دیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ جب صحت پر کوئی بھی ا۔