خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 376

$1940 375 خطبات محمود بُرا اثر نہیں تو روزے رکھنے دو۔ہاں اگر کمزوری نظر آئے تو چھڑوا دینا۔تو ایسے بچے اٹھارہ سال سے کم عمر میں بھی روزے رکھ سکتے ہیں۔لیکن اگر کوئی بچہ دوسروں کی نقالی میں روزے رکھتا ہے یا بچوں کے دکھاوے کے لئے روزے رکھتا ہے اور اس سے اس کی طاقتوں پر برا اثر پڑتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اسے روزے رکھنے سے روکیں کیونکہ ہمارا کام جہاں یہ ہے کہ ہم بچوں کو روزے رکھوائیں وہاں یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کہ اگر ہمارا بچہ کمزور یا بیمار ہو تو اسے روزے نہ رکھنے دیں۔بچوں میں عام طور پر یہ شوق ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ہیں نوں کتنے روزے رکھے۔” اور وہ جواب دیتا ہے کہ دس۔اس پر دوسرا پوچھتا ہے کہ ہوں کتنے روزے رکھے اور جب یہ جواب دیتا ہے کہ آٹھ تو شر مندہ ہو جاتا ہے اور دوسرے کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ میں نے زیادہ روزے رکھے۔تو بچوں میں ایک قسم کی رقابت ہوتی ہے۔اگر محض رقابت کی وجہ سے کوئی بچہ روزے رکھتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اسے روکیں کیونکہ اگر ہم اس عمر میں اسے روزے رکھنے سے نہیں روکیں گے تو بلوغت کے بعد جو اسے تیں یا چالیس یا پچاس سال عمر ملے گی اس میں وہ اپنی طاقت کی کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے گا اور اسی طرح دین کے دوسرے کاموں میں بھی عمدگی سے حصہ نہیں لے سکے گا۔پس اس وجہ سے کہ وہ بعد کی عمر میں دین کی خدمت زیادہ عمدگی سے کر سکے اس عمر میں جو نشوو نما کی عمر ہوتی ہے کمزور بچوں کو مسلسل روزے رکھنے سے روکنا ہمارا فرض ہے اور یہ امر دین کے خلاف نہیں بلکہ اسلام کے عین مطابق ہے۔الله ایک دفعہ رسول کریم صلی نیلم جہاد کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے اعلان فرمایا کہ آج روزہ داروں سے بے روزہ بڑھ گئے۔در حقیقت اس سفر میں بعض صحابہ نے نفلی روزہ رکھا ہوا تھایا ابھی سفر میں روزہ رکھنے کی ممانعت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب منزل پر پہنچے اور افطاری کا وقت ہو گیا تو جو روزہ دار تھے وہ تو روزے کھول کر لیٹ گئے اور جو بے روزہ تھے انہوں نے خیمے لگائے، خندقیں کھو دیں اور لشکر کے لئے لکڑی پانی وغیرہ کا انتظام کیا۔رسول کریم صلی ا ندیم نے یہ دیکھا تو فرمایا کہ آج روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے۔3 یعنی جس کام کے لئے ہم نکلے تھے اس کا موقع ان کو ملا جو بے روز تھے ان