خطبات محمود (جلد 21) — Page 331
$1940 330 خطبات محمود ہو جائے تو تم رسول کی اطاعت کرو اور رسول فوت ہو جائے تو اولیسی الامر کی اطاعت کرو بلکہ اللہ کی موجودگی میں ہی اولی الامر کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری کا حکم ہے۔ممکن ہے کوئی اعتراض کر دے کہ رسول کی اطاعت کا تو حکم ہوا مگر خلیفہ کی اطاعت کا کہاں حکم ہے؟ سو ایسے لوگوں کو یادرکھنا چاہیئے کہ خلیفہ رسول کا قائم مقام ہو تا ہے۔چنانچہ خلیفہ کے معنے نائب کے ہیں مگر وہ نائب اور قائم مقام اولی الامر کا نہیں بلکہ رسول کا ہوتا ہے۔پس قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جب رسول فوت ہو جائے تو تم اس کے خلیفہ کی اطاعت کرو اور اس زمانہ میں اُولی الامر کی بھی اطاعت کرو کیونکہ کوئی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت لوگ اپنے لئے ضروری خیال نہ کریں۔اس لئے رسول کریم صلی الم نے فرمایا ہے کہ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَا عَنِى وَ مَنْ عَلَى آمِيُرِی فَقَدْ عَصَانِی۔3 یعنی جس نے میرے مقرر کردہ حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کر دہ حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی کیونکہ میں ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔مجھے لازما کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اپنے نائب مقرر کرنے پڑیں گے اور لوگوں کے لئے ضروری ہو گا کہ ان کی اطاعت کریں۔اگر وہ اطاعت نہیں کریں گے تو نظام ٹوٹ جائے گا۔پس ان کی اطاعت در حقیقت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی۔تو آطِیعُوا الله وَاطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ میں ایک ایسا مکمل نظام پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہی زمانہ میں اللہ کی اطاعت بھی ضروری ہے ، رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اگر رسول نہ ہو تو اس کے خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے اور اس زمانہ میں اُولی الامر کی اطاعت بھی ضروری ہے۔اللہ ایک ہے ، رسول ایک ہے، خلیفہ بھی ایک ہی ہو گا لیکن اُولیی الأضر کئی ہو سکتے ہیں اس لئے اُولی الامر میں جمع کا صیغہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کئی ہوں گے اور گو خلیفہ ایک ہو گا مگر اس کے تابع بہت سے عہد یدار ہوں گے۔یہ اسلامی نظام ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے اور وہ امت محمدیہ کو حکم دیتا ہے کہ