خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 330

$1940 329 خطبات محمود لیکن ان کی گل ٹیڑھی چل گئی اور گل کے بگڑ جانے کی وجہ سے ان میں ایسی خرابیاں پیدا ہو گئیں کہ وہ دنیا کے لئے مصیبت اور عذاب بن گئے۔اسلام نے بھی ایک نظام قائم کیا ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ نظام ہے مگر جس طرح باقی نظام پیچیدہ ہیں ویسے ہی وہ بھی پیچیدہ ہے۔چنانچہ مسلمہ میں سے ہی وہ ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اسے اٹھا کر دوسروں کے لئے ان کی اطاعت واجب کر دیتا ہے۔بعض لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف خلیفہ ہی واجب الاطاعت ہوتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے صاف طور پر ایسا نظام بتایا ہے جس میں صرف خلیفہ ہی نہیں بلکہ خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیدار بھی واجب الاطاعت ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ - 1 اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ کئے گئے ہیں کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کے بعد اُولی الامر کی۔مگر اس کے معنے یہ بھی ہیں بلکہ قریب ترین معنے یہی ہیں کہ تم اللہ کی اطاعت کرو، تم رسول کی اطاعت کرو اور تم اس زمانہ کے اُولی الامر کی بھی اطاعت کرو۔گویا اللہ بھی موجود ہے، رسول بھی موجود ہے اور اولی الامر کی اطاعت بھی ضروری ہے۔اور یہ وہ معنے ہیں جن کی قرآن کریم کی متعدد آیات سے تصدیق ہوتی ہے۔مثلاً جہاں خبروں کے پھیلانے کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کیوں تم ان لوگوں تک خبریں نہیں پہنچاتے جو بات کو سمجھنے کے اہل ہیں اور جن کے سپر د اس قسم کے امور کی نگرانی ہے۔2 تو یا وہ ایک جماعت تھی جو رسول کریم صلی نیلم کے زمانہ میں موجود تھی اور لوگوں کو حکم تھا کہ صا الله بجائے پبلک میں غیر ذمہ دارانہ طور پر خبریں پھیلانے کے اسے پہنچائی جائیں۔پس یہ آیت بتاتی ہے کہ خود رسول کریم صلی ال نیم کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو عام لوگوں سے ایک امتیاز رکھتے تھے اور لوگوں کو حکم تھا کہ وہ ضروری باتیں ان تک پہنچائیں۔پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ اولی الامر کی اطاعت اللہ اور رسول کی موجودگی میں ہی ضروری ہے یہ ہے کہ اللہ کے بعد رسول کی اطاعت نہیں ہوتی بلکہ اس کی موجودگی میں ہی رسول کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللهِ فوت