خطبات محمود (جلد 21) — Page 3
1940 3 خطبات محمود کی یہ حدیث بتاؤں گا اور اگر کوئی اسے یہ حدیث پہنچاتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ مجھے تو پہلے سے ہی یہ حدیث معلوم ہے اور رسول کریم صلی علیم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ فَلْيُبَغِ الْعَالِمُ الْجَاهِلَ۔میں عالم ہوں اس حدیث سے ناواقف نہیں۔پس تم میرے سامنے یہ حدیث کیوں بیان کرتے ہو ؟ مگر رسول کریم صلی ا ہم نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ فَلْيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ کہ جب کسی مجلس میں یہ حدیث بیان کی جائے تو جو اس حدیث کو سن رہا ہو، یہ نہیں کہ وہ اس حدیث کو جانتا نہ ہو چاہے وہ پہلے سے جانتا ہو، بہر حال جب وہ کسی مجلس میں ایک شاہد کی حیثیت میں اس حدیث کو سنے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے الغائب یعنی اس شخص کے کانوں تک پہنچا دے جو مجلس میں موجود نہیں تھا۔یہاں بھی یہ نہیں کہا کہ اس شخص کو حدیث پہنچاؤ جو اس حدیث کو جانتا نہ ہو بلکہ غائب کا لفظ رکھ کر بتا دیا کہ چاہے وہ اس حدیث کو جانتا ہی کیوں نہ ہو جب وہ اس مجلس میں موجود نہ ہو جس مجلس میں اس حدیث کو بیان کیا جارہا ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اسے پہنچاؤ کیونکہ اصل غرض اس حدیث کے پہنچانے سے یہ نہیں کہ لوگوں کو اس تعلیم کا علم ہو جائے بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ یہ تعلیم لوگوں کے سامنے بار بار آکر ان کے ذہن نشین ہو جائے اور ان کے دل اور دماغ پر اس کا نقش ہو جائے۔دنیا میں کئی باتیں انسان کے علم میں ہوتی ہیں مگر بسا اوقات وہ دل اور دماغ پر نقش نہیں ہو تیں اس وجہ سے باوجو د علم کے ان پر عمل کرنے میں کو تاہی ہو جاتی ہے مگر جب کوئی بات بار بار دہرائی جائے تو وہ دل اور دماغ پر نقش ہو جاتی ہے اور عمل کا ایک جزو بن جاتی ہے۔پس کسی تعلیم کا صرف پڑھ لینا کافی نہیں ہو تا بلکہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور عمل کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ بار بار تعلیم دہرائی جائے۔اسی حکمت کے ماتحت رسول کریم صلی الی تم نے یہ حدیث آگے اور پھر آگے بیان کرنے کی وصیت کی۔ورنہ یہ تو نہیں کہ اس حدیث اور اس مفہوم کو مسلمان پہلے جانتے نہ تھے۔مسلمان پہلے بھی اس بات کو جانتے تھے کیونکہ رسول کریم صلی الیم نے ساری عمر یہی تعلیم دی کہ تم بلاوجہ کسی کامال نہ لو ، بلاوجہ کسی کی جان پر حملہ نہ کرو، بلاوجہ کسی کو دکھ اور اذیت نہ پہنچاؤ۔اسی طرح رسول کریم صلی الی یم نے ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ جھوٹے اتہامات مت لگاؤ، کسی کو ذلیل اور رسوا نہ کرو، کسی سے