خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 278

$1940 277 خطبات محمود جہاد نہیں لیکن ہر زمانہ کا جہاد الگ الگ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی ال نیلم کے زمانہ میں تلوار کا جہاد تھا اور ممکن ہے اس قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ اگر کسی وقت تلوار کے جہاد کا موقع آیا تو وہ سب سے آگے آگے ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں اگر کبھی تلوار کے جہاد کا موقع آیا تو ایسے لوگ سب سے پہلے بھاگنے والے ہوں گے۔پس جب وہ کہتے ہیں کہ یہاں کون سا تلوار کا جہاد ہو رہا ہے اگر تلوار کا جہاد ہو تو وہ شامل ہو جائیں۔تو یا تو وہ اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور میرے خیال میں تو وہ جھوٹ ہی بول رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہ طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مہینہ میں دو دن دکان بند کرنے کے لئے تو تیار نہ ہو اور وہ جہاد کے لئے سال میں سے آٹھ ماہ گھر سے باہر رہ سکتا ہو۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس زمانہ میں کس قسم کے جہاد کی ضرورت ہے خدا کا کام ہے اور یہ خدا کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ہمارے ہاتھ میں تلوار دے دے، چاہے تو قلم دے دے اور چاہے تو تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا جہاد مقرر کر دے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں تلوار کا جہاد نہیں رکھا بلکہ تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا جہادر کھا ہے۔اور یہی وہ جہاد ہے جس کا سورہ جمعہ کی ان آیات میں ذکر ہے جن میں رسول کریم صلی ای کم کی بعثت ثانیہ کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ میں ہر مومن کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے نشانات الہیہ کو بیان کرے یعنی انہیں تبلیغ کرے۔یزیہم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ انہیں پاک کرے یعنی دعاؤں کے ذریعہ تزکیہ نفوس کرے۔یا یزیرہ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگوں کو بڑھائے۔اگر وہ دنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میدان میں ان کو آگے لے جائے ، تعداد میں کم ہوں تو تعداد میں بڑھائے، مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھائے۔غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو انہیں بڑھاتا چلا جائے۔گو یالوگوں کی مالی اور اقتصادی ترقی میں حصہ لے۔يُعَلِّمُهُمُ الكِتب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کو قرآن سکھائے۔وَالْحِكْمَۃ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ احکام شریعت کی حکمتوں اور ان کے اسرار سے لوگوں کو آگاہ کرے۔اس آیت کے اور بھی معنے ہیں جن کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی اس تقریر میں بیان کیا ہوا ہے جو خلافت کے آغاز میں میں نے کی تھی اور جو “ منصب خلافت ” کے نام سے