خطبات محمود (جلد 21) — Page 277
$1940 276 خطبات محمود اور جانے والوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے خرچ پر جائیں۔حتی کہ لڑائی پر جانے والوں کو راشن تک نہیں ملتا تھا بلکہ ہر شخص کا فرض ہو تا تھا کہ وہ اپنی روٹی کا آپ انتظام کرے۔اس کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں ان باتوں کا احساس ہی نہیں۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ سب میں احساس نہیں مگر بہر حال جن کے دلوں میں یہ احساس ہے ان کے مقابلہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں کوئی احساس نہیں اور اس وجہ سے ہم محض اس بات سے تسلی نہیں پاسکتے کہ جماعت کے ایک حصہ میں ان باتوں کا احساس ہے۔جب تک جماعت کا ایک حصہ ہمیں ایسا بھی نظر آتا ہے جو اس احساس سے بالکل خالی ہے اور دعوے یہ کرتا ہے کہ اسے صحابہ کی مماثلت حاصل ہے خواہ وہ کتنا بھی تھوڑا ہے جب تک اس کے اس غیر معقول رویہ کی اصلاح نہ کی جائے گی اس وقت تک ہم چین اور آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔میں نے سب نوجوانوں کی اصلاح اور دوسروں کو مفید دینی کاموں میں لگانے کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی تھی مگر ان کی رپورٹ ہے کہ بعض نوجوان ایسے ہیں کہ جب ہم کوئی کام ان کے سپر د کرتے ہیں تو پہلا قدم ان کا یہ ہو تا ہے کہ وہ اس کام کے کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔لیکن اگر زور دیا جائے تو وہ مان تو لیتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا ہم یہ کام کریں گے مگر پھر دوسرا قدم ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کرتے نہیں۔یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہم کریں گے ، کریں گے مگر عملی رنگ میں کوئی کام نہیں کرتے۔اس کے بعد جب ان کے لئے سزا مقرر کی جاتی ہے تو وہ اس سزا کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم استعفیٰ دے دیں گے مگر سزا برداشت نہیں کریں گے۔اس قسم کے لوگوں کو یا درکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سچے احمدی نہیں۔کیا منافقوں کے سوا مخلص صحابہ میں سے تم کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہو کہ ان میں سے کسی نے کام کرنے سے اس طرح انکار کر دیا ہو یا کیارسول کریم صلی ا یم نے کبھی اس بات کو بر داشت کیا؟ پھر اس جماعت میں سے ایسا نمونہ دکھانے والوں کو ہم صحابہ کا نمونہ کس طرح قرار دے سکتے ہیں ہم تو ان کو انہی میں شامل کریں گے جو صحابہ کے زمانہ میں ایسے کام کرتے رہے ہیں یعنی منافق لوگ۔اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد تھا اور آج تلوار کا