خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 228

$1940 228 خطبات محمود یہ روک جز و یا گلا دور ہو جائے تو یہ دعائیں فوراً قبولیت کا جامہ پہن لیں گی۔میں نے کئی رؤیا ایسے دیکھے ہیں کہ میری دعاؤں سے ان کی مصیبتیں ٹل سکتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جو دعا کرتا ہوں وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔اگر میرے اختیار میں یہ بات ہوتی تو میں ان تکلیفوں کو ހނ ہی کیوں نہ ٹال دیتا جو خود ہمیں آتی ہیں۔قرآن کریم میں ہے کہ کفار آنحضرت صلی لی لی۔کہتے تھے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے اتنے ہی محبوب ہو تو کیوں تمہارا فلاں کام نہیں ہو جاتا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ان سے کہہ دے کہ اگر میرے اختیار کی بات ہوتی تو میں سب بھلائیاں اپنے ہی لئے نہ جمع کر لیتا؟ 12 الله پس اگر آنحضرت صلی علیم کے لئے یہ قانون نہ تھا تو میرے لئے کیونکر ہو سکتا ہے؟ جب آنحضرت صلی ال یک ملک کے لئے بھی یہی قانون تھا کہ جب خدا تعالیٰ دعا قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور کسی نشان کے ذریعہ آپ کی عزت قائم کرنا چاہے تو وہ ضرور قبول کر لیتا۔تو میرے لئے یا کسی اور کے لئے اس کے خلاف کیونکر ہو سکتا ہے ؟ میں تسلیم کرتا ہوں کہ انگریزوں کی طاقت میں ہے کہ چاہیں تو ہمیں پھانسی دے دیں یا قید کر دیں۔حالانکہ اس وقت وہ دشمن کے مقابلہ میں کمزور نظر آتے ہیں مگر باوجود اس کے میرا دعویٰ ہے کہ میری دعا سے ان کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں کیونکہ انگریزوں کا ہماری جانوں پر تصرف اور قانون کے ماتحت ہے اور اس بارہ میں دعا کی قبولیت ایک اور قانون کے ماتحت ہے۔آنحضرت صلی ا یکم کو پکڑنے کے لئے ایران کے بادشاہ نے ارادہ کیا تھا مگر ابھی پکڑنے والے نہ آئے تھے صرف پیغام لے کر یمن کے گورنر کے آدمی پہنچے تھے مگر آپ نے ان سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہہ دو کہ ہم نہیں آتے ، تمہارے خدا کو ہمارے خدا نے مار دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ کے لڑکے کو تحریک کی اور اس نے اپنے باپ کو مار دیا۔13 مگر اُحد کی جنگ میں دشمن نے آپ پر حملہ کیا پتھر مارے، آپ کے دانت ٹوٹ گئے ، سر زخمی ہو گیا اور خود کی کیلیں سر میں گھب گئیں آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور آپ کے اوپر بعض اور زخمی صحابہ گرے14 اور صحابہ نے خیال کر لیا کہ آپ شہید ہو گئے۔15 اب کوئی کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی اتنی عزت منظور تھی کہ آپ کی خاطر ایران