خطبات محمود (جلد 21) — Page 227
$1940 227 خطبات محمود بعض دفعہ ایسے حالات ہوتے ہیں کہ وہ ضرور رڈ ہونے والی ہو جاتی ہیں۔مثلاً وہ دعائیں جو پیشگوئیوں کے مطابق ہوں وہ قبول ہو جاتی ہیں۔جیسے زید یا بکر کا اپنے دشمنوں پر فتح پانا یا کسی کے ہاں لڑکا ہو جانا یا مہلک مرض سے شفا پانا کوئی قانون الہی نہیں لیکن اگر کسی ایسی بات کے متعلق کوئی پیشگوئی ہو تو اس کے متعلق دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔گویا جب خدا تعالیٰ کی تقدیر سے دعامل جائے تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔مثلاً کسی شخص کے ہاں شادی کے بعد گیارھویں برس لڑکا ہونا ہوتا ہے تو اس کے دل میں دسویں سال دعا کی تحریک ہوتی ہے اور اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کی عزت قائم ہو اور اس کے ذریعہ اس کا فضل ظاہر ہو۔یہ کوئی قانون نہیں کہ گیارھویں سال بیٹا ہو بلکہ مختلف میعادوں کے بعد ہوتے ہیں۔ابھی ایک دوست کے ہاں اٹھارہ سال کے بعد اولاد ہوئی۔پس جو وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کام کے متعلق ہوتا ہے اس کے ساتھ اگر دعا مطابقت کھا جائے تو وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے آملی۔اس کی یہی خوبی ہے کہ وہ ایسے وقت کے ساتھ شامل ہو گئی ہے جب خدا تعالیٰ پہلے ہی قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج 11 یہ خدا تعالیٰ کی رحمت کی نسیم تھی اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ آج ہم دعائیں قبول کریں گے اور اس نے اپنے مسیح کو بھی اس سے آگاہ کر دیا کہ یہ تقدیر ہے اس سے فائدہ اٹھالو۔اب میں نے جو یہ کہا کہ اگر انگریز قوم سچے دل سے توحید پر قائم ہو کر مجھ سے دعا کی درخواست کرے تو اسے فتح حاصل ہو گی۔یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں ، اس کے کلام اور میری رؤیاؤں کے عین مطابق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس قوم کے لئے بہت دعائیں کی ہیں مگر ان قوموں نے خدا تعالیٰ کے تخت پر ایک بندے کو بٹھایا ہوا ہے اس لئے خدا تعالیٰ ان کو ابتلاؤں میں ڈال رہا ہے۔پیغامی انکار کریں تو بے شک کریں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق جو جو دعائیں کی ہیں ان کے قبول ہونے میں روک ان کا شرک ہی ہے۔اگر