خطبات محمود (جلد 21) — Page 97
1940 97 خطبات محمود اسے منع کر دیتا۔آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور جب اس نے پوچھا کہ کام کیوں نہیں کرتے تو اس نے جواب دیا کہ میں کان گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو۔سر گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو، منہ گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑ دو، پیٹھ گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو، ٹانگیں گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو۔جب تمام چیزیں میں نے چھوڑتے ہی چلے جانا ہے تو شیر کا باقی کیارہ گیا۔تو منہ سے دعویٰ کرنا اور بات ہے اور اللہ تعالیٰ سے طاقت اور قوت کا ملنا بالکل اور بات۔جو شخص خدا تعالیٰ کا سچا خلیفہ تھا وہ تو دلیر اور بہادر تھا اور ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ قدم قدم پر ان لوگوں کے دل ڈرتے تھے۔ایک طرف انہیں یہ ڈر تھا کہ جماعت میں ہمارے خلاف کوئی جوش پیدا نہ ہو جائے دوسری طرف یہ ڈر تھا کہ کہیں حضرت خلیفہ اول ان سے ناراض نہ ہو جائیں تیسری طرف وہ اس بات سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں اس کے نتیجہ میں یہ تو نہیں ہو گا کہ نہ ہم ادھر کے رہیں نہ اُدھر کے اور نہ احمدی رہیں نہ غیر احمدی۔غرض بات بات پر ان کا دل ڈرتا تھا کیونکہ ان کے دل میں خدا نہیں بول رہا تھا بلکہ نفسانی خواہشات جوش مار رہی تھیں اور نفسانی خواہشات حوصلے بڑھایا نہیں کرتیں بلکہ حوصلوں کو پست کیا کرتی ہیں۔گویا ان لوگوں کی جرات اور پھر خلافت کے دعوی کی مثال ایسی ہی تھی جیسے بنیا جب کسی سے لڑتا ہے تو پنیری اٹھا کر کہتا ہے میں یہ مار کر تیر اسر پھوڑ دوں گا مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی بجائے اس کے کہ وہ دو قدم آگے بڑھے دو قدم پیچھے گود کر چلا جاتا ہے جس سے صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ جب اس نے یہ کہا کہ میں پنیری مار کر تیر اسر پھوڑ دوں گا تو اس وقت اس کا دل نہیں بول رہا تھا بلکہ صرف زبان بول رہی تھی۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو کوئی یہ کہے کہ میں مار کر تیرا سر پھوڑ دوں گا اور دوسری طرف وہ بجائے آگے بڑھنے کے گود کر دو قدم پیچھے چلا جائے۔اسی طرح یہ لوگ بھی ایک طرف تو یہ کہتے تھے کہ ہم خلیفہ ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صدر انجمن احمدیہ کو ہی اپنا جانشین قرار دیا ہے اور دوسری طرف ڈرتے تھے کہ خبر نہیں کہیں جماعت ناراض نہ ہو جائے، کہیں حضرت مولوی صاحب ہم پر ناراضگی کا