خطبات محمود (جلد 21) — Page 98
$1940 98 خطبات محمود اظہار نہ کر دیں، کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کوئی ایسے سامان نہ ہو جائیں جو ہمیں اپنی کوششوں میں ناکام و نامراد کر دیں۔غرض قدم قدم پر ان لوگوں کو خوف و ہر اس نے گھیر رکھا تھا مگر بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان لوگوں نے اخبارات سلسلہ میں ایک اعلان شائع کرایا جس میں لکھا کہ ہم نے الوصیت کی ہدایات کے مطابق خلافت کا انتخاب لیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کے سامنے مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب خلافت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔میں نے کہا آپ کا اس سوال سے کیا منشاء ہے ؟ کہنے لگے یہی کہ خلیفہ کے کیا اختیارات ہیں ؟ میں نے کہا خواجہ صاحب وہ دن گئے۔اب اختیارات کے فیصلہ کا کوئی وقت نہیں۔اختیارات کے فیصلے کا وقت وہ تھا جب ہم نے حضرت خلیفہ اول کی ابھی بیعت نہیں کی تھی۔مگر جب ہم نے آپ کی بیعت کر لی تو اب بیعت کرنے کے بعد ہمارا کیا حق بنتا ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات پر بحث کریں۔جب خلافت کا انتخاب عمل میں آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ کون شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جانشین بننے کا اہل ہے تو اس کے بعد ہمارا یہی کام ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں۔یہ کام نہیں کہ ہم آپ کے اختیارات پر بحث کریں۔میرے اس جواب پر انہوں نے فوراً اپنی بات کا رخ بدل لیا اور کہا کہ بات تو ٹھیک ہے۔میں نے تو یو نہی علمی طور پر یہ بات دریافت کی تھی۔اور ترکوں کی خلافت کا حوالہ دے کر کہا کہ چونکہ آجکل لوگوں میں اس کے متعلق بحث شروع ہے اس لئے میں نے بھی آپ سے اس کا ذکر کر دیا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کی کیا رائے ہے اور اس پر ہماری گفتگو ختم ہو گئی۔لیکن بہر حال اس سے مجھ پر ان کا عندیہ ظاہر ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں حضرت خلیفہ اول کا کوئی ادب اور احترام نہیں۔اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح خلافت کے اس طریق کو مٹا دیں جو ہمارے سلسلہ میں جاری ہوا پس اصل اختلاف یہاں سے شروع ہوا مگر جب انہوں نے محسوس کیا کہ جماعت نے چونکہ ہے۔