خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 66

1940 66 خطبات محمود انہیں اٹھوا کر لے جاتے تھے۔اور ایسا تاجر اگر دس بارہ روپیہ بھی روز کمالے تو زیادہ سے زیادہ تین چار سو روپیہ ماہوار کی آمد تھی اور اس حیثیت میں وہ عرب کے رؤساء کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔پس جب رسول کریم صلی الیکم کہتے ہوں گے کہ “ہم مسلمان ” تو یہ لوگ کس حقارت سے کہتے ہوں گے کہ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو ہم کہتے ہیں۔لیکن آج اگر قریش کے ان سر داروں بلکہ بادشاہوں کو بھی کوئی لا کر کھڑا کر دے کہ وہی اڑھائی مسلمان آج دنیا میں چالیس کروڑ ہو گئے ہیں تو وہ کبھی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ابو جہل اگر آج زندہ ہو جائے اور خانہ کعبہ میں قسم اٹھا کر بھی اسے بتایا جائے کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی ال نیم کے ماننے والے ہیں اور دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں مسلمان آباد نہ ہوں۔ہندوستان میں بھی ہیں، ایران میں بھی اور مغربی افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ بھی پھیلے ہوئے ہیں اور ہر جگہ پائے جاتے ہیں تو وہ یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔سة مسلمان آج گو کتنے خراب کیوں نہ ہوں اس میں کیا شک ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی للی نیم سے محبت ضرور کرتے ہیں اور آپ کے عشق کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ان لوگوں کو لا کر آج ہر جگہ پھراتے جاؤ تو وہ اسے خواب سمجھیں گے یا جنون۔اور کبھی یہ نہیں مانیں گے کہ یہ اسی محمد صلی الل نظم کے غلام ہیں جو ایسی کمزور حالت میں تھے اور اگر ان کو عقبہ ، شیبہ ، ابو جہل اور قریش کے بڑے بڑے کفار کے خاندانوں میں لے جایا جائے اور وہ دیکھیں کہ کس طرح آج ان کی اولا دیں اسلام پر کار بند ہیں تو ان کا دماغ پریشان ہو جائے کہ یہ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ ان لوگوں نے کس طرح اسلام کی مخالفت میں اپنی عمریں گنوا دیں۔پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ آج ان کی اولا دیں نہ صرف محمد ملا لی کہ بلکہ آپ کے غلاموں کی خدمت پر فخر کرتی ہیں۔پھر دوسرے نقطۂ نگاہ سے دیکھو کہ ایک زمانہ میں جب عیسائی خدا تعالیٰ سے سچی محبت کرتے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی سچے دل سے اطاعت کرتے تھے اور دین کی خدمت میں تکالیف برداشت کرتے تھے اُس وقت آسمان پر ان کی کتنی عزت تھی مگر آج گو ان کی حکومت تو بڑی وسیع ہے مگر آسمان پر ان کے لئے سوائے ملامت کے اور کچھ نہیں۔اسی طرح یہود نے جو حضرت موسیٰ کی امت ہیں دنیوی لحاظ سے بہت ترقی کی، کروڑوں روپیہ کمایا اور