خطبات محمود (جلد 21) — Page 67
1940 67 خطبات محمود اقتصادی دنیا میں بے حد اہمیت حاصل کر لی حتی کہ دنیا میں کوئی جنگ یا صلح اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک حضرت موسیٰ کے نام لیواؤں کی انگلی بھی اس پر نہ رکھی ہوئی ہو۔مگر آسمان پر ان کے لئے کوئی جگہ نہیں بلکہ فرشتے اُس جگہ کو صاف کرتے ہیں جہاں موسائیوں کی ہوا بھی پہنچ جائے۔اور اس میدان میں ان کی ترقی کو دیکھ کر جب ان کے تنزیل پر نگاہ ڈالی جائے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔یہی حال مسلمانوں کا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے آج اگر ابو جہل اور کفارِ مکہ کے دوسرے سرداروں کو لا کر مسلمانوں کی ترقی دکھائی جائے تو وہ حیرت زدہ ہو جائیں۔اسی طرح اگر محمد رسول اللہ صلی ا ہم یہ دیکھیں کہ یہ میری امت ہے تو آپ کبھی یہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوں کیونکہ نقشہ ہی بدل چکا ہے۔ان میں نہ وہ اخلاق ہیں اور نہ روحانیت جو آپ اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت بالکل مفقود ہے۔وہ تقدس نہیں، علم نہیں، دیانت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی علی کم پیدا کرنا چاہتے تھے۔اسی طرح آج ہماری جماعت بھی بہت ادنیٰ حالت سے ترقی کر رہی ہے۔دنیا آج ہماری طرف دیکھ کر حقارت سے مسکراتی ہے اور کہتی ہے کہ ان لوگوں کی بساط ہی کیا ہے جو ہمارا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔میں نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو اقلیت سمجھتے ہیں۔بھلا یہ بھی کوئی اقلیت ہیں۔مگر یہ کہنے والوں کی مثال وہی ہے جو مکہ والوں کی تھی اور عیسائیوں اور یہودیوں کی تھی۔وہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی جوانی سے آنحضرت صلی علی ایم کے بچپن کا مقابلہ کرتے تھے۔ان کی یہ بات سن کر مجھے اپنے ایک چھوٹے بچہ کی مثال یاد آجاتی ہے۔اس کا رنگ کچھ سیاہ ہے اور اس کے چھوٹے بھائی کا گورا۔اور جب اسے کہا جائے کہ اس کا بھائی گورا اور وہ کالا ہے تو وہ اپنا ہاتھ اور اپنے بھائی کے بال دکھا کر کہتا ہے کہ دیکھو میں کتنا گورا ہوں اور وہ سیاہ ہے۔ہر شخص اس بچے کی بات پر ہنس دے گا مگر کیا وہ لوگ ہنسی کے قابل نہیں ہیں جو محمد صلی للی علم کے بچپن کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوانی سے مقابلہ کرتے ہیں؟ یہی حال ہمارے مخالفوں کا ہے جو ہماری کمزوری پر ہنستے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری مثال ابھی چھوٹے بچہ کی ہے اور ہم نے ترقی کرنی ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ضرور ترقی کریں گے اور جب جوانی کو پہنچیں گے تو ہمارے اس بچپن کو دیکھنے والوں کو