خطبات محمود (جلد 21) — Page 58
$1940 58 خطبات محمود تحریروں سے انکار دراصل ان پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہے ورنہ اگر یہ کہتے کہ ہاں ہم نے نبی لکھا ہے اور ضرور لکھا ہے مگر وہ غلطی تھی اب بات ہماری سمجھ میں آگئی ہے تو ان کی بات معقول سمجھی جاتی مگر ان کی موجودہ پوزیشن کو دیکھ کر تو ہر شخص یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ سچائی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔پس دینی اور دنیاوی ہر قسم کے معاملات میں سچائی کو مقدم رکھنا نہایت ضروری ہے اور یہ بات ہر میدان میں انسان کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ماں باپ اور استادوں کو چاہیے کہ بچوں میں سچائی کی عادت پیدا کریں۔اکثر بچے جھوٹ ماں باپ یا استاد سے ہی سیکھتے ہیں۔دس فیصدی دوسروں سے اور نوے فیصدی ماں باپ یا استادوں سے سیکھتے ہیں۔ہمسایہ لڑکوں سے بھی سیکھتے ہیں مگر چونکہ ان کے لئے ان کے دلوں میں ادب اور احترام نہیں ہو تا اس لئے ان کا اثر اتنا گہرا نہیں ہو تا جتناماں باپ اور استادوں کا ہوتا ہے۔صرف دس فیصدی مثالیں ایسی ملیں گی کہ بچوں نے ہمسایہ بچوں سے جھوٹ سیکھایا نوکروں سے سیکھ لیا ورنہ نوے فیصدی ماں باپ اور استادوں سے سیکھتے ہیں۔جو ماں باپ ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ نقصان کے باوجو د سچ بولتے ہیں ان کے شریف الطبع بچے اکثر بچے ہوتے ہیں۔اسی طرح استاد کا اثر بھی بہت ہوتا ہے کیونکہ بچے کے دل میں ان تینوں کا احترام ہوتا ہے۔غور کر کے دیکھ لو ہر انسان جو حرکتیں کرتا ہے ان میں سے اکثر اس کے ماں باپ یا استاد میں ہوں گی اور اس نے ان کی نقل میں وہ حرکت اختیار کی ہو گی۔بعض لوگ ایک خاص طرح کندھا ہلاتے ہیں یا سر ہلاتے ہیں یا ایسی ہی اور حرکات کے عادی ہوتے ہیں اور اگر تحقیق کی جائے تو یہ ثابت ہو گا کہ یہ حرکات اکثر انہوں نے ماں باپ یا استاد کی نقل میں اختیار کی ہوں گی۔بچہ بوجہ احترام ہمیشہ ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے یہ بڑے ہیں میں بھی ان کی نقل کر کے بڑا بن جاؤں گا۔تو اگر ماں باپ اور استاد سچائی پر قائم ہو جائیں تو نوے فیصدی سچ دنیا میں قائم ہو سکتا ہے۔باقی صرف دس فیصدی جھوٹ رہ جائے گا جو دوسرے ذرائع سے قائم ہوتا ہے اور اس کا علاج بہت آسان ہے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی اخلاقی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی وشش کریں۔جب محکمہ قضاء کے سامنے جواب دہی یا گواہی کے لئے کوئی پیش ہو تو سچ سچ بات