خطبات محمود (جلد 21) — Page 59
* 1940 59 خطبات محمود کہہ دے۔مذہبی معاملات میں بھی یہی طریق اختیار کرنا چاہیے۔اگر کسی بات کا جواب ایک وقت نہیں آتا تو بناوٹی جواب دینے کی کوشش نہ کرو میں تو اسی طرح کرتا ہوں۔ایک شخص نے ایک خط میرے سامنے پیش کیا جو غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لکھا ہوا تھا۔میں نے اسے دیکھ کر کہہ دیا کہ اس وقت اس کا کوئی جواب میرے ذہن میں نہیں۔آپ کے باقی حوالوں سے میں یہی سمجھتا ہوں کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا منع ہے مگر اس خط کا میں ابھی کوئی جواب نہیں دے سکتا۔کئی دفعہ مجھے چیلنج بھی دیا گیا کہ اس کا جواب دو مگر میں نے کبھی بناوٹی جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔میں نہیں سمجھتا کہ اس میں ہتک کی کوئی بات ہے۔ممکن ہے یہ خط بعض مخصوص حالات میں لکھا گیا ہو جو مجھے معلوم نہیں مگر بہر حال دوسرے حوالے ایسے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر احمدی کا جنازہ آپ جائز نہیں سمجھتے تھے۔اس خط کو دیکھ کر میں نے یہی کہا کہ اس کا کوئی جواب میں نہیں دے سکتا اور اس میں حرج ہی کیا ہے کہ انسان سچی بات صاف صاف کہہ دے۔ایک دفعہ لاہور میں دو شخص مجھ سے ملنے آئے۔ایک نے دریافت کیا کہ آپ نے کس مدرسہ میں تعلیم پائی ہے ؟ اس کا مطلب دیو بند و غیر ہ علمی مدارس سے تھا۔میں نے کہا کسی مدرسہ میں نہیں۔اس نے کہا کسی سے کوئی سند حاصل کی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔پھر اس نے کہا کہ کون کون سے علوم پڑھے ہیں؟ میں نے کہا کوئی نہیں۔اس کی غرض ان سوالات سے صرف یہ تھی کہ ظاہر کرے کہ یہ تو جاہل آدمی ہے اس سے ہم کیا گفتگو کریں۔میں اسے یہ جواب بھی دے سکتا تھا کہ تمہیں ان سوالات کا کیا حق ہے مگر وہ پوچھتا گیا اور میں جواب دیتا گیا۔دوست بیٹھے تھے اور وہ ایسے سوالات کرنے سے اسے روکنا بھی چاہتے تھے مگر میں نے کہا نہیں پوچھنے دو۔اس نے اپنے ساتھی سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ تو خودمانتے ہیں کہ جاہل ہیں پھر ان سے کیا سوال کریں۔میں نے کہا کہ ایک سوال آپ نے نہیں کیا؟ وہ بات میں خود بتا دیتا ہوں۔وہ کہنے لگے کیا؟ میں نے کہا میں انگریزی مدرسہ میں پڑھتا تھا اور پرائمری میں بھی فیل ہوا اور مڈل میں بھی اور انٹرنس میں بھی مگر ان سب باتوں کے باوجو د میں ایک چیز پڑھا ہوا ہوں۔