خطبات محمود (جلد 21) — Page 53
خطبات محمود 53 1940 شروع شروع میں تو مجھ سے اصل بات پردہ میں رکھی گئی مگر کچھ عرصہ کے بعد جب خلیفہ صاحب کو یقین ہو گیا کہ میں مخلص احمدی بن گیا ہوں تو مجھے بیت الفکر کے ایک کو نہ میں بٹھا کر کہنے لگے کہ آج میں تم پر مخلص احمدی کا راز منکشف کرنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ ہمارا اصل عقیدہ یہی ہے کہ مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ کریم سے افضل ہیں۔حالانکہ جب وہ یہاں سے گیا تو دیانتداری سے اصل بات بھی بتا سکتا تھا کہ میرا ان لوگوں سے اتفاق نہیں ہو سکا۔اس لئے ان میں نہیں رہ سکا۔لیکن اسے چھپا کر اس نے اتنا بڑا فتراء کیا جو زبان سے نکالتے ہوئے ایک شیطان خصلت انسان کا دل بھی کانپ جاتا ہے۔یہ ہندوستانی ذہنیت ہے کہ جھوٹ بولنے میں دریغ نہیں کیا جاتا۔باقی مرتدین کو بھی دیکھ لو۔ادھر مرتد ہوئے اور اُدھر سینکڑوں قصے گھڑ لیتے ہیں۔حالانکہ سوال قرضہ یا مقدمہ یا نوکری یا کسی بچے کی نوکری یا شادی بیاہ کا ہوتا ہے مگر ہزاروں باتیں پاس سے ہی بنا کر ایسا گورکھ دھندا پیش کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔تو آجکل جھوٹ بہت عام ہے اور سچ کے قیام کے لئے بہت سی مشکلات در پیش ہیں لیکن اگر قوم سچ کے لئے تیار ہو جائے تو اس کا اثر بھی بہت بڑا ہو گا۔اگر یہ مشکل کام ہماری جماعت کرلے تو اس کے نتائج نہایت شاندار ہوں گے۔اگر ہر فرد جماعت سیچ کی پابندی اختیار کرے، عور تیں بچوں کو سچ بولنا سکھائیں، بہنیں بھائیوں کو بھائی بہنوں کو اور باپ بیٹوں کو اور چاہے کسی عزیز ترین رشتہ دار کے متعلق سچی گواہی دینی پڑے اس میں دریغ نہ کریں تو اس کے نتائج نہایت شاندار ہوں گے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ لوگ بعید ترین واقف کے لئے بھی جھوٹ بولنے میں تامل نہیں کرتے۔میرا تجربہ یہی ہے کہ ہماری جماعت میں دوسروں کی نسبت سچائی بہت زیادہ ہے اور فیصلوں میں بالعموم وہ دقتیں پیش نہیں آتیں جو دوسرے لوگوں کے معاملات میں آتی ہیں مگر پھر بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ بول لیتے ہیں۔لیکن ایک نقص ہماری جماعت میں بہت عام ہے اور وہ بد ظنی ہے۔میں نے دیکھا ہے ہر شخص یہی کہتا ہے کہ جی قاضی نے عمد أغلط فیصلہ کیا حالا نکہ میں نے سو فیصدی اس بات کو غلط پایا ہے کہ جان بوجھ کر کسی قاضی نے بد دیانتی کی ہو۔مگر مجھے کوئی فیصلہ کرانے والا شاید ہی ایسا ملا ہو جس نے یہ نہ کہا ہو کہ قاضی نے بد دیانتی کی ہے