خطبات محمود (جلد 21) — Page 484
$1940 483 خطبات محمود میرے کلام سے محروم رہے گا لیکن یہ سمجھنے والا کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے خدا تعالیٰ کے کلام سے محروم رہ جائے گا۔پس مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ لوگ یہ خیال کریں کہ اس میں کچھ نہیں لیکن یہ میں برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک شخص بھی یہ خیال کرے کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے۔اس لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اس میں جو کچھ ہے وہ محض اس زمانہ کے متعلق بعض باتیں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔قرآن کریم کے نئے نئے علوم ہمیشہ کھلتے رہیں گے جو آج ہمیں معلوم نہیں۔اور پھر یہ بھی کہ اس زمانہ کے متعلق بھی بعض غلطیاں لگ سکتی ہیں مگر چونکہ یہ خدائی تائید سے لکھی گئی ہے اس لئے میں کہ سکتا ہوں کہ اس میں اس زمانہ یا آئندہ زمانہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی دینی اور روحانی باتیں جو لکھی گئی ہیں وہ صحیح ہیں۔ہاں بعض آئندہ ہونے والی باتوں کے متعلق یہ احتمال ضرور ہے کہ ہم ان کے اور معنے کریں اور جب وہ ظاہر ہوں تو صورت اور نکلے۔پس جہاں تک علوم، اخلاق، روحانی اور دین کا تعلق ہے میں امید کرتاہوں کہ یہ بہتوں کے لئے ہدایت کا اور ان کو گمراہی سے بچانے کا موجب ہو گی۔گو یہ عین ممکن ہے کہ آئندہ کے متعلق کسی بات کے سمجھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قرآن کریم میں پیشگوئیاں تھیں مگر کسی کو خیال بھی نہ تھا۔سورۂ نساء میں اور سورہ فاتحہ میں نبوت کا ثبوت موجود تھا مگر کسی کے ذہن میں نہیں آیا اور بھی بیسیوں پیشگوئیاں ہیں جن کو پہلے لوگوں نے نہیں سمجھا۔اسی طرح ہم بھی ممکن ہے آئندہ زمانوں کے متعلق بعض پیشنگوئیوں کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکیں اور غلطی کھا جائیں مگر جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی تائید سے لکھی گئی ہیں اور جو بات خدا تعالیٰ کی تائید سے لکھی جائے اس سے گمراہی پیدا نہیں ہو سکتی۔، اس تمہید کے بعد میں جماعت کو اس کی خریداری کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔قادیان میں بھی اور باہر بھی جہاں تک ہو سکے دوستوں کو اس کی اشاعت کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اس وقت تک دفتر میں چھ سو احباب کی طرف سے اطلاعات آچکی ہیں۔بعض براہ راست میرے پاس بھی آئی ہیں اور وہ ملا کر کل تعداد آٹھ سو تک ہو گی مگر تین ہزار تعداد چھپوائی گئی ہے۔