خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 485

$1940 484 خطبات محمود اور جماعت کی کثرت کے لحاظ سے اور ان دوستوں کی نسبت کے لحاظ سے جو عام طور پر کتابیں خریدتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس کی اشاعت دس پندرہ ہزار ضروری ہونی چاہیئے۔اس وقت تک اس کی اشاعت کے لئے جدوجہد بہت ہی کم ہوئی ہے۔میرے علم میں سوائے چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کے اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔انہوں نے دوسو خریدار کی اس وقت تک اطلاع دی ہے۔ان کے علاوہ کسی کی طرف سے کوئی جدوجہد میرے علم میں نہیں۔یا ایک صاحب نے جن کی ترقی ہوئی گیارہ خریداروں کی قیمت مبلغ پچپن روپیہ ارسال کی ہے۔بس اور کسی کا مجھے علم نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ میں اس کام کو بوجھ محسوس کرتا ہوں مجھ سے یہ کام کروا کے جماعت کا اس طرف سے غفلت برتنا بہت ہی افسوسناک بات ہے۔یہ کوئی اخبار “ الفضل ” تو نہیں کہ کسی سے مانگ کر پڑھ لیا۔یہ تو ایسی چیز ہے کہ گھر میں رکھ کر ہی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ایک دفعہ آدمی اسے سارا پڑھے اور پھر ضرورت کے مطابق حوالہ وغیرہ دیکھ لے۔کتاب سے فائدہ اٹھانے کی یہی صورت ہو سکتی ہے۔ایسا حوالہ جو ضرورت کے مطابق مل جائے شیخ کی طرح دل میں گڑ جاتا ہے۔قادیان کی احمدی بالغوں کی آبادی 14،13 سو ہے اور اس لحاظ سے یہاں چار پانچ سو خریدار ہونے چاہئیں مگر ہوئے صرف چالیس پچاس ہیں۔اسی طرح لاہور، سیالکوٹ، جہلم، راولپنڈی، فیروز پور، امر تسر اور پنجاب کے دوسرے اضلاع ہیں۔پھر صوبہ سرحد کے اضلاع ہیں۔یوپی اور اس سے آگے بنگال ہے اور ہر شہر میں پانچ دس ہیں پچاس سو دو سو خریدار پید اہو سکتے ہیں مگر جماعت نے اس کی طرف کوئی توجہ اب تک نہیں کی۔اس لئے میں پھر ایک دفعہ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ جتنا کام میرے ذمہ تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔پریس کا کام بھی کل یا پرسوں تک ختم ہو جائے گا، جلد ساز بھی حسب وعدہ کام کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ابھی مجھے میر محمد اسحاق صاحب نے بتایا ہے کہ جلد ساز کہتے ہیں کہ ہم عام جلد سازوں کی طرح نہیں کریں گے بلکہ مقررہ تعداد سے بھی زیادہ تیار کر کے روزانہ دیا کریں گے۔اور اگر خدا تعالیٰ ان کو توفیق دے تو 23 یا 24 کی شام تک ایک سو ساٹھ یا اس سے بھی زیادہ جلدیں تیار ہو جائیں گی۔میرا ارادہ ہے کہ قادیان کے لوگ بعد میں حاصل کریں۔پہلے باہر والوں کو دے دی جائیں۔پندرہ بیس دن تک سب کو مل جائیں گی۔