خطبات محمود (جلد 21) — Page 482
$1940 481 خطبات محمود سائیکل پر ، کوئی ٹانگہ پر، کوئی گڑے پر۔بعض علاقوں میں شتر مرغ بلکہ بکرے سے بھی سواری کا کام لے لیا جاتا ہے۔تو یہ تفسیریں تو سواری کی طرح ہیں اور صرف تقریب کا ذریعہ ہیں۔کامل تفسیر ان میں نہیں۔کوئی سواری کسی قلعہ کے دروازہ تک تو پہنچا سکتی ہے مگر اس سے دروازہ نہیں کھل سکتا۔اور جب تک دروازہ نہ کھلے دیواروں تک پہنچنے سے کیا فائدہ۔فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مومن ان ذرائع کو تقریب سے زیادہ اہمیت نہ دے بلکہ خود آگے بڑھے اور سوچے سمجھے۔پس جہاں تک ان نو سورتوں کا تعلق ہے یعنی سورہ یونس سے شروع کر کے سورہ کہف تک پر سوں میں نے کام ختم کر دیا ہے اور پر سوں شام تک پر لیس والے ختم کر دیں گے۔ہم نے 8،7 سو صفحات حجم کا اندازہ کیا تھا۔پھر اندازہ لگانے والوں نے کہا کہ آٹھ ، نو سو کے در میان صفحات ہوں گے۔پھر 10،9 سو صفحات کا اندازہ کیا گیا اور اب رپورٹ ملی ہے کہ 1006 صفحات ہو جائیں گے۔جس محنت کے ساتھ کام کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ آخری حصہ ایسا اچھا نہیں چھپ سکتا جیسا کہ ارادہ تھا۔کاتبوں سے دن رات کام لیا گیا ہے۔اسی طرح پر لیس والوں سے بھی۔انسانی طاقت جتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے اسے اٹھانے کا بہت اعلیٰ نمونہ کارکنوں نے دکھایا ہے مگر اس محنت کے باوجو د کتابت وغیرہ کی بعض غلطیاں ہوں گی۔میں دوبارہ تو پروف دیکھ ہی نہیں سکا اور اس لئے مجھے خیال ہے کہ بعض جگہ ضرور غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔لکھتے ہوئے بعض اوقات میں نوٹ دے دیتا ہوں کہ حوالہ دے دیا جائے یا فلاں معنے لغت سے نکال کر لکھ دیئے جائیں۔عین ممکن ہے ان میں سے کوئی حوالہ لکھنارہ جائے یا معنے نقل کرنے رہ جائیں۔بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تمام کارکنوں نے بہت محنت اور اخلاص سے کام کیا ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔ہم غلط نامہ کی اشاعت کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں آخری حصہ میں پہلے سے کم غلطیاں ہوں گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب عالم تو بہت تھے مگر ان کو کاپی اور پروف دیکھنے کی مشق نہ تھی اس لئے اس حصہ میں بہت غلطیاں رہ گئی ہیں۔کوئی حصہ کہیں چھوٹ گیا ہے، کوئی غلط جوڑ دیا گیا ہے۔ہم نے اس کی درستی بھی کی ہے۔بعض جگہ علیحدہ پر چیاں