خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 481

$1940 480 خطبات محمود نے یہی لکھا ہے اور ہم یہی مانیں گے۔عوام کی ذہنیت بھی عجیب ہوتی ہے۔ضلع گجرات میں ایک دفعہ مناظرہ ہوا۔وہاں ایک احمدی تھا غیر احمدی اسے پکڑ کر لے گئے کہ چلو مولویوں کو چھوڑو ہم خود مناظرہ کرتے ہیں۔مگر وہاں جا کر مولوی کو اس کے مقابل کر دیا۔مولوی نے کہا اچھا قرآن کھولو۔سب لوگ ان پڑھ تھے۔مولوی نے سوچا کہ احمدی بھی ان پڑھ ہے اسے یو نہی قابو کرلوں گا۔اس نے کہا کہ دیکھو قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ رافعک یہ حضرت مسیح کے متعلق ہے۔اور رفع کے معنی اوپر اٹھانے کے ہیں۔رفع یدین سب لوگ جانتے ہیں کہ ہاتھ اوپر اٹھانے کو کہتے ہیں۔رافع کے معنی صاف ہیں کہ تینوں چکاں گا یعنی اوپر اٹھاؤں گا۔سب لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں اور احمدی سے کہنے لگے کہ بس اب تو بہ کرو۔وہ بھی سمجھ گیا کہ یہاں اب سیدھی طرح کوئی بات نہیں سنے گا۔اس نے کہا مولوی صاحب رافِعُگ کی ف کے نیچے لکیر سی کیسی ہے۔مولوی صاحب نے کہا یہ زیر ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ زیر کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟ مولوی صاحب فرمانے لگے ہیٹھاں ” یعنی نیچے۔اس پر وہ احمدی بولا کہ بس یہی بات ہے۔رافعگ تو اوپر لے جاتا ہے مگر یہ زیر او پر نہیں جانے دیتی اور اس دلیل کو سن کر جو دوسرے زمیندار تھے انہوں نے سمجھ لیا کہ بس معاملہ پھر شکی ہو گیا ہے۔تو عام لوگ زیادہ بار یک باتوں کو نہیں دیکھتے۔ان کو علم ہو تا نہیں وہ تو یہی کہتے ہیں کہ بس یہی لکھا ہے۔یہی درست ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بعض اوقات کتابت کی غلطی ہو جاتی ہے۔بعض اوقات مؤلف سے سہو ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ ایسی ذمہ داری ہے کہ اسے اٹھانا موت قبول کرنا ہے اور یہ موت دراصل ہر انسان آپ ہی قبول کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔جیسے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ نجات وہی پائے گا جو اپنی صلیب آپ اٹھائے گا۔5 اس کا مطلب یہی ہے کہ نجات وہی پائے گا جو خد اتعالیٰ کی راہ میں صلیب پائے گا۔میری صلیب کو پوجنے سے نجات نہیں ہو سکتی۔تو ہر انسان خود قرآن پڑھے، سوچے سمجھے تو صحیح علم حاصل کر سکتا ہے۔باقی تفاسیر تو ایسی ہی ہیں جیسے کسی جگہ پہنچنے کے لئے کوئی سواری پر چڑھ جاتا ہے، کوئی ریل پر ، کوئی موٹر پر ، کوئی ہوائی جہاز پر ، کوئی گھوڑے پر، کوئی