خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 450

$1940 449 خطبات محمود تو کر لو۔انہوں نے کہا باتیں بعد میں دیکھی جائیں گی پہلے یہ بتاؤ کہ محمد صلی الی میں چلے تو نہیں گئے۔وہ پھر باتوں میں مشغول کرنے لگی مگر انہوں نے اصرار کیا کہ پہلے رسول کریم صلی علیم کا حال بتاؤ۔آخر اس نے بتایا کہ آپ کل لشکر سمیت چلے گئے ہیں۔ابو خیثمہ نے جب یہ سنا تو کہا ہمارے لئے شرم کا مقام ہے کہ خدا کا رسول تو دھوپ میں سفر کر رہا ہو اور میں اپنی بیوی کے پاس آرام سے بیٹھا باتیں کر رہا ہوں۔یہ کہتے ہی انہوں نے گھوڑے پر زین ڈالی اور چل پڑے۔رسول کریم صلی ا لی ایم کو بھی اپنے ساتھیوں کے اخلاص اور ان کی محبت کا پتہ تھا۔آپ کے دل میں بار بار یہ خیال آتا تھا کہ ابو خیثمہ نہیں آیا۔وہ بڑا مخلص آدمی ہے۔معلوم نہیں اس کے آنے میں کیا روک حائل ہو گئی۔صحابہ کہتے ہیں کہ آپ تھوڑی دور تک چلتے اور پھر مڑ کر دیکھتے اور فرماتے ابو خیثمہ نہیں آیا۔پھر کچھ سفر طے کرتے تو پیچھے کی طرف منہ موڑ کر دیکھتے اور ذرا بھی گردو غبار اڑتی نظر آتی تو فرماتے ابو خیثمہ نہیں آیا۔اس جنگ میں رسول کریم صلی اللہ یکم اور آپ کے صحابہ کو قیصر جو عیسائی بادشاہ تھا اس کے مقابلہ میں جانا تھا۔اور رسول کریم صلی علیکم جلد جلد منزلیں طے کرتے ہوئے جارہے تھے تا عیسائی لشکر کو تیاری کرنے کا موقع نہ مل جائے اور ابوخیثمہ چونکہ چوبیس گھنٹے پیچھے رہ گئے تھے اس لئے ان کا لشکر کے ساتھ جلد آملنا مشکل تھا۔وہ اپنی سواری کو ایڑیاں مارتے ہوئے تیزی کے ساتھ سفر طے کر رہے تھے۔آخر تیسرے دن اسلامی لشکر کو دور سے گر داڑتی دکھائی دی اور انہوں نے کہا کہ گرد اڑتی نظر آرہی ہے۔معلوم ہوتا ہے کوئی سوار آ رہا ہے۔رسول کریم صلی ال نیوی نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کسن آبَا خَيْثَمَة یعنی تو ابو خیثمہ ہو جا۔یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ کسی انسان کی شکل بدل جائے اور وہ ہو تو کوئی اور مگر اس کی شکل کسی اور انسان کی طرح ہو جائے۔بلکہ اس محاورہ کے معنے یہ تھے کہ کاش یہ آنے والا ابو خیثمہ ہو۔اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ابو خیثمہ دوڑے چلے آتے ہیں۔رسول کریم صلی یہ نیلم نے فرمایا ابو خیمہ آخر تم آہی ملے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں پیچھے رہ سکتا تھا؟ میں باہر گیا ہوا تھا۔جب واپس آیا اور مجھے پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو میں اسی وقت سوار ہو کر چل پڑا اور منزلیں مارتا ہوا یہاں پہنچ گیا۔اس زمانہ میں اکیلے سفر کرنا نہایت خطرناک ہوا کرتا تھا مگر انہوں نے اس بات کی کوئی