خطبات محمود (جلد 21) — Page 443
$1940 442 خطبات محمود کو کبھی دیکھ لیں۔حضرت علی جو ابھی چھوٹے بچے ہی تھے اور جن کی تیرہ سال کی عمر تھی انہوں نے جو بار بار آپ کو ادھر اُدھر پھرتے دیکھا تو انہیں تعجب سا ہوا کہ اسے کوئی کام نہیں جو یو نہی بازار میں پھر رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں پھر رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں مکہ میں ایک کام کے لئے آیا ہوں۔عربوں میں مہمان نوازی کا وصف خاص طور پر پایا جاتا ہے۔حضرت علی یہ سنتے ہی انہیں اپنے گھر لے گئے۔یوں وہ خود تو رسول کریم صلی ا ظلم کے پاس رہتے تھے مگر یا اس وقت وہ انہیں اپنے گھر لے گئے یا یہ کہ رسول کریم صلی نیلم کے گھر ان کی رہائش بعد میں شروع ہوئی ہے۔بہر حال بعض روایات میں ہے کہ وہ انہیں گھر لئے گئے، کھانا کھلایا۔دوسرے دن انہوں نے پھر چکر کاٹنے شروع کر دیئے۔حضرت علی نے پھر ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔آپ یہاں کس طرح پھر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا ابھی کام ہو انہیں اس لئے ادھر ادھر پھر رہا ہوں۔خیر حضرت علی پھر شام کو انہیں اپنے ہمراہ لے گئے اور کھانا کھلایا۔تیسرے دن انہوں نے پھر دیکھا کہ وہ بدستور ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔آخر حضرت علی نے ان سے کہا کہ میں آپ کا میزبان رہا ہوں اور میزبان کا بھی مہمان پر کسی قدر حق ہو تا ہے۔آپ بتائیں کہ آپ کو یہاں کیا کام ہے اور آپ کیوں ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔انہوں نے کہا بات تو مخفی ہے مگر آپ پر اعتبار کر کے بتا دیتا ہوں کہ میں نے سنا ہے یہاں کوئی شخص ہے جس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے لوگ اسے پاگل کہتے ہیں۔میرے دل میں یہ بات سنتے ہی خیال آیا کہ جب تک اس بات کی تصدیق نہ کر لی جائے کہ وہ پاگل ہے یا نہیں ہے اس وقت تک اسے جھوٹا کہنا جائز نہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میری اس سے ملاقات ہو جائے۔حضرت علیؓ نے کہا کہ تم نے پہلے دن ہی یہ کیوں نہ بتا دیا۔میں تو انہی کے ساتھیوں میں سے ہوں۔اب چلو میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں۔مگر ان دنوں مکہ میں اس قدر شدید مخالفت تھی کہ حضرت علیؓ نے سمجھا اگر لوگوں نے اسے میرے ساتھ دیکھ لیا تو انہیں ضرور شبہ گزرے گا اور وہ اسے تکلیف پہنچائیں گے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ میں آگے آگے چلتا ہوں تم کچھ فاصلہ پر میرے پیچھے پیچھے رہنا۔اگر راستہ میں مجھے کوئی شدید مخالف نظر آیا تو میں کسی اور کام میں مشغول ہو جاؤں گا اور تم کسی اور کام میں مشغول ہو جانا تا اسے یہ خیال ہی نہ آئے کہ میں تمہیں رسول کریم صل الا لیلی علیدوم