خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 444

$1940 443 خطبات محمود الله سة کی طرف لے جارہا ہوں۔آخر وہ اس گھر میں پہنچے جہاں رسول کریم صلی للی مقیم تھے اور جو تبلیغ اسلام کا ان دنوں مرکز تھا۔ابوذر نے اپنے آنے کا سارا قصہ بیان کیا اور کہا کہ آپ اپنا دعویٰ بتائیں۔رسول کریم صلی اللہ ہم نے مختصراً اپنا دعوی بیان کیا اور قرآن کریم کی چند آیات سنائیں۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ میری تسلی ہو گئی ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ مسلمان ہو گئے۔پھر انہوں نے عرض کیا کہ میرے علاقہ میں کوئی بھی مسلمان نہیں۔یہاں تو پھر بھی دس ہیں مسلمان ہیں مگر وہ تو بالکل بدوی ہیں۔انہیں جب یہ معلوم ہو گا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ ضرور شور مچائیں گے۔اس لئے اگر اجازت ہو تو کچھ عرصہ کے لئے میں اپنے اسلام کو چھپا لوں۔رسول کریم صلی علیم نے فرمایا اچھا اجازت ہے۔بیعت کرنے اور اسلام کو چھپانے کی اجازت لے کر وہ باہر آئے اور خانہ کعبہ کے طواف کے لئے گئے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ صحن کعبہ میں رؤسائے قریش کی ایک مجلس لگی ہوئی ہے اور رسول کریم صلی الی کمک کو بڑے بڑے تبرے اور گالیاں دی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ یہ بڑا عظمند پیدا ہو گیا ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے معبود جھوٹے ہیں۔گویا ہمارے باپ دادے سب جھوٹے تھے اور یہ یه شخص سچا ہے۔جب ان کے کان میں یہ آوازیں پڑیں تو باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی للی کم سے وہ یہ اجازت لے کر آئے تھے کہ میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان نہیں کروں گا بلکہ اس بات کو چھپائے رکھوں گا تاکہ لوگ مخالفت نہ کریں۔جب انہوں نے اسلام اور رسول کریم صلی ال نیم کی توہین ہوتی دیکھی تو ان کی برداشت کی طاقت جاتی رہی اور انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه کفار یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسی خطرناک گستاخی ہے کہ عین اس وقت جب ہم تردید کر رہے ہیں یہ باہر کارہنے والا ہمارے خلاف کھڑ اہو گیا اور اس نے ہمارے شہر میں فساد پیدا کرنا چاہا ہے۔اس پر کچھ نوجوان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے انہیں پکڑ کر خوب مارا۔وہ ابھی مار ہی رہے تھے کہ حضرت عباس آگئے۔حضرت عباس ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور ان کی عمر ابھی چھوٹی ہی تھی۔گورسول کریم صلی ان میں سے ایک سال بڑے تھے یعنی رسول کریم صلی ایم کی عمر اس وقت 42 سال تھی اور آپ کی 43 سال مگر ان کی عقل کا سکہ لوگوں کے قلوب پر بیٹھا ہوا تھا اور مکہ کے