خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 441

$1940 440 خطبات محمود ایسے لوگوں کو میری کوئی تقریر یا خطبہ یا کسی اور کی کوئی تقریر اور خطبہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔رسول کریم صلی ال یو ں نے جس وقت دعویٰ کیا اس وقت مکہ کے لوگ تو اس بات میں مشغول ہو گئے تھے کہ یہ ہمارے دین اور نظام میں رخنہ پیدا کر رہا ہے۔آؤ ا سے تباہ کر دیں۔وہ نہ خود آپ کی باتیں سنتے اور نہ دوسروں کو سننے دیتے۔بلکہ اگر کسی مجلس میں آپ اپنی باتیں سنانے جاتے تو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ایک دوسرے سے کہتے کہ سب مل کر شور مچا دو تا اس کی باتیں کوئی شخص سنے نہ پائے۔1 چنانچہ وہ شور مچاتے ، تالیاں پیٹتے، گالیاں دیتے اور بُرا بھلا کہتے اور اس طرح جو لوگ آپ کی باتیں سننا چاہتے تھے وہ بھی شور کی وجہ سے کچھ نہ سن سکتے تھے۔مگر جب مکہ کے لوگ رسول کریم ملی ایم سے یہ سلوک کر رہے تھے اس وقت دور، میلوں میل دور، منزلوں دور غفار قبیلے کا ایک شخص ابوذر کسی سے سنتا ہے کہ مکہ میں ایک ایسا دیوانہ پیدا ہوا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔انہیں خود ایک ضروری کام تھا۔اس لئے انہوں نے اپنے بھائی کو بلایا اور کہا کہ اونٹ لو اور مکہ جاؤ۔وہ کہنے لگا کہ ایسا کون ساضر وری کام پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے میرا ابھی مکے جاناضروری ہے ؟ انہوں نے کہا کہتے ہیں وہاں ایک دیوانہ پیدا ہوا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔اے میرے بھائی جو کوئی ایسی بات کہتا ہے وہ جھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور سچا بھی ہو سکتا ہے۔اگر تو وہ جھوٹا ہے تو تمہارا اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔تم مکہ سے پھر آؤ گے اور اگر وہ سچا ہے اور ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے تو ہم ثواب کے اس عظیم الشان موقع سے محروم رہیں گے اس لئے تم فور امکہ جاؤ اور اس بات کا پتہ لگاؤ۔چنانچہ ان کا بھائی مکہ کو چل پڑا۔حسب دستور مکہ کے دروازوں پر قریش کے بڑے بڑے سردار اسے ملے اور کہنے لگے کہ کچھ تم نے سنا ہمارا ایک رشتہ دار پاگل ہو گیا ہے۔کسی نے کہا پاگل تو نہیں بلکہ اس نے اپنی ایک دکان کھول لی ہے۔وہ کہنے لگاسنا تو میں نے بھی ہے۔پھر انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ وہ ہمارا اپنا عزیز اور رشتہ دار ہے۔ہمیں اس سے کوئی دشمنی نہیں مگر چونکہ اب وہ پاگل ہو گیا ہے اس لئے ہم دوسروں کو یہی نصیحت کیا کرتے ہیں کہ وہ اس پاگل کے قریب نہ پھٹکیں۔کسی نے کہہ دیا کہ پاگل نہیں محض شرارت کر رہا ہے اور لوگوں میں فتنہ برپا کر رہا ہے۔آخر انہوں نے روئی کی اور اس کے کانوں میں ٹھونس دی اور کہا