خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 402

خطبات محمود 401 $1940 صداقت سے بھرا پڑا ہے۔میں کس کس آیت کو پڑھوں۔وہ کہنے لگا آخر کوئی آیت تو پڑھیں۔میں نے کہا جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی صداقت سے بھرا ہوا ہے تو کسی ایک آیت کا سوال ہی کیا ہے۔تم خود کوئی آیت پڑھ دو میں اسی سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔قرآن کی بعض آیتیں لمبے چکر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت بنتی ہیں اور بعض آیتوں سے سیدھے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے مگر مجھے یقین تھا کہ خدا اس کی زبان پر کوئی ایسی آیت ہی لائے گا جس سے وہ فوراً پکڑا جائے گا۔چنانچہ اس نے جھٹ یہ آیت پڑھ دی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ أَمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ 4 اور کہا کہ اس سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت کیجئے۔میں نے کہا اس آیت میں کن لوگوں کا ذکر ہے۔کہنے لگا مسلمانوں کا۔میں نے کہا جب رسول کریم صلی للی نیلم کے زمانہ میں مسلمان بگڑ سکتے تھے تو اب کیوں نہیں بگڑ سکتے اور جب آج بھی مسلمان بگڑ سکتے ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کسی کو آنا چاہیے یا نہیں ؟ تمہاری دلیل یہی ہے کہ محمد صلی علیم کے بعد کسی مصلح اور مامور کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ محمد صلی یام کے بعد تو کیا محمد صلى الم کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے اور جب آپ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے تو آپ کے بعد تو بدرجہ اولیٰ مسلمان گمراہ ہو سکتے ہیں اور جب گمراہ ہو سکتے ہیں تو لازماً خدا کی طرف سے مصلح بھی آسکتا ہے پس یا تو یہ مانو کہ امت محمدیہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کہو تو یہ قرآن کے منشا کے خلاف ہو گا کیونکہ جو آیت تم نے پڑھی ہے اس میں یہی ذکر ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر حقیقت میں وہ مومن نہیں اور جب امت محمدیہ گمراہ ہو سکتی ہے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور بھی آسکتا ہے۔یہ بات جو میں نے اس کے سامنے کہی یو نہی مشغلہ کے طور پر نہیں کہہ دی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح تو رات کا جتنا سچا حصہ ہے وہ سارے کا سارار سول کریم ملی ایم کی صداقت کا ثبوت ہے، جس طرح انجیل کا جتنا سچا حصہ ہے