خطبات محمود (جلد 21) — Page 398
$1940 397 خطبات محمود دلیل رکھتے ہیں اس لئے ہم سچے ہیں اور تم سچے نہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کا ایمان بصیرت پر قائم کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہے اور ذمہ داری سے بچنا نیکی نہیں ہوتی بلکہ ذمہ داری کو ادا کرنا نیکی ہوتی ہے۔پس ہمارے ذمہ یہ فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو دینی مسائل سے آگاہ کریں اور انہیں ان مسائل میں ایسا پختہ کریں کہ انہیں کوئی گمراہ نہ کر سکے۔اگر ہم افراد کی اس رنگ میں تربیت نہیں کریں گے اور پھر یہ امید رکھیں گے کہ کسی مخالف کی باتوں سے وہ متاثر بھی نہ ہوں تو یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کہتے ہیں کہ “آپے میں رتی بجی۔آپے میرے بچے جیون ” یعنی خود بخود گھر میں بیٹھے فرض کر لیا کہ ہمارا ہر فرد دینی مسائل سے آگاہ ہے اور پھر خود بخود یہ نتیجہ نکال لیا کہ اب انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا حالانکہ جب تک انہیں دوسرے کے لٹریچر کا علم نہیں ہو گا اور انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے اعتراضات کے کیا جوابات ہیں اس وقت تک بالکل ممکن ہے کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں اور اس کی فتنہ انگیز باتوں سے متاثر ہو جائیں۔پس ہماری جماعت کے افراد کو شکاری پرندے بنا چاہیئے۔انہیں وہ باز بننا چاہیئے جو روحانی لحاظ سے اپنے شکار پر حملہ آور ہوتا اور اسے اپنے قبضہ و تصرف میں لے آتا ہے۔چوہوں کی طرح اپنی بلوں میں سر چھپانے والی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ کامیاب وہی قوم ہوا کرتی ہے جو بازوں اور شکروں کی طرح ہوتی ہے۔مجھے حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جب کبھی باہر تقریر کے لئے جانا پڑتا تو مجھے یہ بات بیان کرتے وقت ہمیشہ مزا آ جاتا کہ لوگ یہ شور مچاتے ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کو شکست دے دی حالانکہ جب آپ نے دعوی کیا اس وقت آپ اکیلے تھے مگر جس طرح شیر بھیڑوں کے گلے پر حملہ کرتا اور ان میں سے کئی بھیڑیں اٹھا کر لے جاتا ہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے ہزاروں نہیں لاکھوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔اب فرض کرو بھیڑیں ایک کروڑ ہوں اور شیر صرف ایک ہو لیکن وہ ان کروڑ بھیڑوں میں سے سو کو اٹھا کر لے جائے تو بہر حال فاتح شیر ہی کہلائے گا نہ کہ بھیڑیں۔اسی طرح بے شک مخالف زیادہ ہیں اور احمدی کم۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا جس کثرت کے ساتھ