خطبات محمود (جلد 21) — Page 399
$1940 398 خطبات محمود غیر احمدیوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی کھینچے اس کا سینکڑواں حصہ بھی کوئی مخالف ہم میں سے لوگوں کو لے گیا۔اگر نہیں تو کامیاب وہ کس طرح ہو گئے ؟ کامیاب تو وہی ہوا جو اکیلا اٹھا اور لاکھوں کو اس نے اپنے ساتھ ملالیا۔پھر اگر کوئی برگشتہ بھی ہوا تو خدا نے اس کی جگہ ہمیں کئی مخلصین دے دیئے۔قرآن کریم خود سچے سلسلہ کی صداقت کا معیار یہ بیان فرماتا ہے کہ اگر اس میں سے ایک شخص بھی مرتد ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہم ایک قوم کو لے آتے ہیں 3 اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔پس یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔کیونکہ ہم تھوڑے ہو کر جیتتے چلے جاتے ہیں اور وہ زیادہ ہو کر ہارتے چلے جاتے ہیں۔آخری زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام امر تسر تشریف لے گئے تو بڑی سخت مخالفت ہوئی اور لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے۔ان دنوں امر تسر میں ہماری جماعت کے ایک دوست تھے جو کچھ پڑھے لکھے تو نہیں تھے مگر یوں سمجھدار آدمی تھے۔پرانے زمانہ میں ایک دستور تھا جسے شاید آجکل کے احمدی نہ جانتے ہوں اور وہ یہ کہ جب لڑکے والے لڑکی لینے جاتے تھے تو جو مستورات لڑکی والوں کے گھر میں اکٹھی ہوتی تھیں وہ لڑکے والوں کو خوب گالیاں دیا کرتی تھیں۔ان گالیوں کو پنجابی میں سٹھنیاں کہا کرتے تھے۔وہ خیال کرتی تھیں کہ ان سٹھنیوں سے نکاح بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب امر تسر تشریف لے گئے تو وہاں کے ایک رئیس محمد شریف صاحب کے ہاں ٹھہرے جو کشمیری خاندان میں سے تھے۔لوگوں کو جب آپ کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو خوب گالیاں دیں، سیاپے کئے اور جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بھی آ آکر گالیاں دیتے رہے۔جب آپ وہاں سے تشریف لے آئے تو کسی مخالف نے اس احمدی سے کہا کہ دیکھا تمہارے مرزا کو کیسی گالیاں ملیں۔وہ کہنے لگا گالیوں کا کیا ہے آخر تم میں سے ہی اتنے آدمیوں نے بیعت بھی تو کی ہے؟ رہا گالیاں سو ان کا کیا ہے۔سٹھنیاں تو تم نے دینی ہی تھیں کیونکہ مرزا صاحب تمہارے آدمی جو لے گئے۔تو جو قوم خدا تعالیٰ کی برکت کے نیچے ہوتی ہے وہ لوگوں کو کھینچے چلی جاتی ہے۔ہم دوسروں کے مقابلہ میں مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے بہت ہی کمزور ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اسلام کے میدان میں ہمارا اس قدر رُعب ہے