خطبات محمود (جلد 21) — Page 394
خطبات محمود سوچ سمجھ کر نیکیاں کی ہوں گی۔393 $1940 پس یہ طریق بڑا خطرناک ہے جو قوموں کو تباہ و برباد کرنے والا ہے۔اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کو جلد سے جلد دور کرنا چاہیئے۔بے شک ایسی باتیں جن سے فتنہ پیدا ہونے کا امکان ہو اُن سے روکنا ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے مگر لٹریچر ایسی چیز نہیں کہ اس کے پڑھنے سے کسی کو روکا جاسکے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہماری جماعت کے افراد میں سے جن کو بھی فرصت ہو وہ مخالفین کے لٹریچر کو ضرور پڑھیں۔ہاں ہمارا یہ مطالبہ ہر وقت رہے گا کہ وہ صرف مخالفانہ لٹریچر کو ہی نہ پڑھیں بلکہ اپنے لٹریچر کو بھی بار بار پڑھیں۔پس میں تمہیں دوسروں کے اشتہارات یا پمفلٹ یا کتب پڑھنے سے منع نہیں کرتا بلکہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم عیسائیوں کی کتابیں بھی پڑھو، تم یہودیوں کی کتابیں بھی پڑھو ، تم آریوں کی کتابیں بھی پڑھو اور جتنی جتنی تمہیں فرصت ہو اس کے مطابق ان کے لٹریچر کا مطالعہ جاری رکھو۔یہ مطالعہ تمہارے لئے مضر نہیں بلکہ مفید ہے اور جتنا زیادہ یہ مطالعہ بڑھے گا اتنا ہی تمہارا کیریکٹر مضبوط ہو گا اور دوسروں کے حملوں سے تم محفوظ رہو گے۔کیونکہ تم جانتے ہو گے کہ تمہارا مخالف کیا کہتا ہے اور تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ اب اگر میرے سامنے کوئی عیسائی آئے اور کہے کہ مسیح ابن اللہ تھے تو مجھ پر اس کی اس بات کا کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مسیح کو کن معنوں میں ابن اللہ کہا گیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ مسیح ایک بشر تھا۔میں جانتا ہوں کہ اس کے ابن اللہ ہونے کے کیا دلائل ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جن قرآنی آیات سے وہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ان کا کیا مفہوم ہے ؟ میں نے ان کے اعتراضوں کو پڑھا ان کے جوابات کو سمجھا اور مجھے یقین حاصل ہو گیا کہ جن آیات سے وہ حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ان کے معنے وہ نہیں جو وہ کرتے ہیں بلکہ اور ہیں۔مثلاً اگر کوئی عیسائی کہے کہ قرآن میں حضرت مسیح کے متعلق روح منه 1 کے الفاظ آتے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ روح اللہ تھے۔تو میں اس سے قطعا نہیں گھبراؤں گا کیونکہ مجھے اس اعتراض کا جواب آتا ہے اور جب آتا ہے تو میرے لئے گھبرانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ تو غیروں کی باتوں کا پڑھنا بشر طیکہ جس مذہب میں انسان داخل ہو اس کی اسے پوری