خطبات محمود (جلد 21) — Page 393
$1940 392 خطبات محمود افراد کے سامنے آتے رہیں تو ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ انہیں وفات مسیح کے دلائل بھی سمجھائیں۔اسی طرح اگر ہم کہہ دیں کہ مسئلہ نبوت کے بارہ میں کسی مخالف کی کوئی کتاب نہ پڑھی جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی جماعت کو اپنے عقیدہ کے دلائل بتانے میں بھی ہم ست ہو جائیں گے اور جو لوگ وفات مسیح یا مسئلہ نبوت کو ہم میں ماننے والے ہوں گے وہ بھی عَلَى وَجْهِ الْبَصِيرَت ان مسائل پر قائم نہیں ہوں گے بلکہ تقلیدی رنگ میں ہوں گے حالانکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان دلائل اور شواہد کی بناء پر اپنے تمام اعتقادات رکھے۔چنانچہ قرآن کریم میں رسول کریم صلی الی یکم کا یہی دعوی بیان ہوا ہے کہ میں اور میرے متبع دلائل سے اسلام کو مانتے ہیں مگر تم اپنی باتوں پر بے دلیل قائم ہو اور جو قوم کسی بات کو بے دلیل مان لیتی ہے وہ کبھی برکت حاصل نہیں کر سکتی۔برکت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بادلیل مانے ، چاہے وہ سچے مذہب میں ہی کیوں شامل نہ ہو۔اگر ایک مسلمان اس لئے خدا کو ایک سمجھتا ہے کہ اس کے ماں باپ خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے۔اگر ایک مسلمان اس لئے نمازیں پڑھتا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ کو ہمیشہ نمازیں پڑھتے دیکھا۔اگر ایک مسلمان اس لئے روزے رکھتا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ اور اپنی قوم کے افراد کو روزے رکھتے دیکھا۔اگر ایک مسلمان اس لئے زکوۃ دیتا ہے کہ اس کی قوم زکوۃ دیتی ہے اور اگر ایک مسلمان اس لئے حج کرتا ہے کہ اور لوگوں کو بھی وہ حج کرتے دیکھتا ہے تو قیامت کے دن اس کی توحید ، اس کی نمازیں، اس کے روزے، اس کی زکوۃ اور اس کا حج اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔بلکہ خدا کہے گا کہ بے شک تم نے توحید کے عقیدہ پر ایمان رکھا مگر میں اس کا ثواب تمہارے ماں باپ کو دوں گا جنہوں نے دلائل سے میری وحدانیت پر ایمان رکھا تھا۔اسی طرح بے شک تم نے نمازیں بھی پڑھیں ، تم نے روزے بھی رکھے، تم نے زکوۃ بھی دی، تم نے حج بھی کیا مگر چونکہ یہ تمام اعمال تم نے دوسروں کو دیکھ کر کئے اور خود ان اعمال کی حقیقت اور حکمت کو نہ سمجھا اس لئے جو لوگ نمازیں سمجھ کر پڑھا کرتے تھے ، روزے سمجھ کر رکھا کرتے تھے ، زکوہ سمجھ کر دیا کرتے تھے اور حج سمجھ کر کیا کرتے تھے۔میں ان تمام نیکیوں کا ثواب ان کو دوں گا نہ کہ تمہیں۔اس طرح ہر نیکی کا ثواب مارا جائے گا اور وہ ان لوگوں کو دیا جائے گا جنہوں نے