خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 384

$1940 383 خطبات محمود سے قبل ہم ہر بچہ سے توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ تمام روزے رکھے گا مگر ماں باپ کا یہ فرض ضرور ہے کہ وہ اس عمر میں انہیں روزے رکھنے کی عادت ڈالیں کیونکہ اگر ان رخصت کے ایام میں انہیں روزے رکھنے کی عادت نہیں ہو گی تو انیسویں سال وہ کبھی سارے رمضان کے روزے نہیں رکھ سکیں گے۔انیسویں سال وہی شخص رمضان کے تمام روزے رکھ سکتا ہے جس نے گیارہ بارہ سال سے روزے رکھنے کی مشق شروع کر دی ہو اور اٹھارویں سال تک قریباً تمام روزے رکھنے کا عادی ہو گیا ہو ورنہ اگر وہ اس رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھائے گا تو شاید ساری عمر ہی بہانے بنا تار ہے گا اور کبھی بھی سارے روزے نہیں رکھ سکے گا۔میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ قادیان میں ایسے کئی نوجوان موجود ہیں جو معمولی معمولی بہانوں کی آڑ میں روزہ چھوڑ دیتے ہیں مثلاً کوئی کہہ دیتا ہے کہ روزہ رکھنے سے مجھے پیچش ہو جاتی ہے، کوئی کہتا ہے مجھے کمزوری اور ضعف ہو جاتا ہے اور یہ صرف بہانہ ہو تا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اچھے تندرست لوگوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی سب لوگوں کو ابتدائی روزوں میں کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور ہو جاتی ہے۔خود میری یہ حالت ہے کہ شروع سے ایک دو روزوں میں مجھے شام کے وقت سر درد کا دورہ ہو جایا کرتا ہے۔میرے معدے میں ترشی زیادہ ہے اور فاقہ کی وجہ سے اس ترشی کا زور دماغ کی طرف ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سر درد شروع ہو جاتا ہے مگر ایک دو دن کے بعد وہ ترشی ماری جاتی ہے اور پھر سر درد نہیں ہوتا۔اب اگر اس قسم کے سر درد کو میں بیماری قرار دے دوں تو شاید ایک دو روزوں کے سوا کبھی کوئی روزہ نہ رکھ سکوں۔تو اس قسم کے بہانوں کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔مگر بلا وجہ سختی کر کے یونہی خیال کر کے کہ فلاں بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں ہی بالغ ہو گیا ہے اس سے تمام روزے رکھوانا بھی جائز نہیں۔بلکہ بارہ تیرہ سال کی بھی شرط نہیں میں تو یہ بھی مان سکتا ہوں کہ کوئی شخص آٹھ سال کی عمر میں ہی بالغ ہو جائے مگر یہ کوئی قانون نہیں ہو گا۔طبی طور پر جو ایک مسلمہ قانون ہے وہ یہی ہے کہ 18 سال کی عمر بلوغت تامہ کا زمانہ ہے۔بعض کی بلوغت تامہ بائیس سال کی عمر میں بھی ہوتی ہے مگر ایسے لوگ بہت قلیل ہوتے ہیں۔زیادہ تر جن بچوں نے اپنا قد نکالنا ہوتا ہے وہ اٹھارہ سال تک