خطبات محمود (جلد 21) — Page 385
$1940 384 خطبات محمود نکال لیتے ہیں اور ان کی قوتیں بھی نشو و نما حاصل کر لیتی ہیں۔بعد میں بھی گو ایک خاص عمر تک ان قوتوں میں نشو و نما ہوتا رہتا ہے مگر وہ بہت کم ہوتا ہے۔اس نشو و نما کے زمانہ میں بچے پر یہ زور دینا کہ وہ ضرور تمیں روزے رکھے اس کی صحت کو خراب کرنا اور اسے آئندہ کے لئے کام کے نا قابل بنانا ہے۔مگر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اس عمر کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اگر اس کو ضائع کر دیا گیا تو اس کا بھی بچے کو نقصان پہنچے گا بلکہ جیسے مدرسہ کی پڑھائی میں تدریجاً اضافہ کیا جاتا ہے اسی طرح ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اس زمانہ میں اپنے بچوں کو ہر سال کچھ نہ کچھ روزے رکھواتے چلے جائیں۔کچھ روزے بارہ سال کی عمر میں رکھوائیں۔پھر کچھ روزے بڑھا کر تیرہ سال کی عمر میں رکھوائیں۔اسی طرح چودھویں، پندرھویں، سولہویں اور سترھویں سال اس کے روزوں میں اضافہ کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اٹھارویں سال اگر وہ طاقتور ہے تو اسے تمام روزے رکھوائے جائیں اور اگر کمزور ہے تو دو چار چھڑا دیئے جائیں تا کہ جب وہ اپنی عمر کے انیسویں سال میں داخل ہو تو ایک روزہ بھی نہ چھوڑے۔اگر اس طرح اسے پہلے سے روزوں کی عادت نہیں ہو گی تو انیسویں سال وہ کبھی سارے روزے نہیں رکھ سکے گا بلکہ کچھ روزے رکھے گا اور کچھ چھوڑ دے گا۔اسی طرح بیسویں سال کچھ روزے رکھے گا اور کچھ چھوڑ دے گا اور کئی سال کے بعد وہ اس حالت پر آئے گا کہ رمضان کے تمام روزے رکھے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس عرصہ میں اس کے دل پر زنگ لگ جائے اور جو روزے وہ چھوڑ دے انہیں دوبارہ نہ رکھے۔تم غور کر کے دیکھ لو اپنے دوستوں اور ہمسائیوں پر بھی نظر دوڑا کر معلوم کر لو کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن سے اگر کوئی روزہ رہ جاتا ہے تو وہ بعد میں رکھ لیتے ہیں۔نماز کے متعلق تو ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ جب کسی سے کوئی نماز رہ جاتی ہے تو وہ دوسری نماز کے وقت اسے ادا کر لیتا ہے لیکن رمضان کے روزوں کے متعلق ہمیں یہ تعہد نظر نہیں آتا۔جو لوگ تقویٰ شعار ہوتے ہیں وہ تو بعد میں روزے رکھ لیتے ہیں مگر عام طور پر اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی یا زیادہ سے زیادہ لوگ یہ کر لیتے ہیں کہ شوال میں ان سے جتنے روزے رکھے جاسکتے ہیں رکھ لیتے ہیں اور باقی روزے چھوڑ دیتے ہیں۔یہ نتیجہ اسی بات کا ہے کہ نوجوانوں کو آغاز جوانی سے روزے رکھنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصتوں سے