خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 380

$1940 379 خطبات محمود لیٹ گئے۔انہوں نے پھر اٹھایا تو وہ پھر لیٹ گئے۔آخر پکڑ پکڑا کر وہ انہیں نماز کے لئے چھوٹی مسجد میں لائے۔مسجد میں بیٹھ کر بھی وہ اونگھتے ہی رہے اور اونگھتے اونگھتے ہی انہوں نے نماز پڑھی۔لطیفہ یہ ہوا کہ جب نماز کے بعد وہ جانے لگے تو نیند کی حالت میں کسی کی پرانی سٹری ہوئی جوتی پہن کر چل پڑے۔رستہ میں نوکر نے جو ان کو کسی کی بھٹی پر انی جوتی پہنے دیکھا تو کہا حضور آپ نے یہ کیا پہنا ہوا ہے؟ اس آواز پر وہ کچھ بیدار ہوئے اور اپنے پاؤں کی طرف دیکھ کر حیران ہو گئے۔آخر اپنے نوکر سے کہنے لگے کہ جلدی سے یہ جوتی وہاں جا کر رکھ آؤ کسی نے دیکھ لیا تو وہ یہ نہ کہے کہ میں مسجد سے جوتی پھر الا یا ہوں حالانکہ ان کا اپنا جو تا پچیس تیس روپے کا ہو گا اور وہ جوتی پھٹی پرانی تھی۔کوئی کہہ ہی کس طرح سکتا تھا کہ انہوں نے پچھیں تھیں روپے جوتے کے بدلہ میں ایک پھٹی پرانی جوتی پھر الی مگر انہوں نے نوکر سے کہا جلدی جانا ایسا نہ ہو کہ کوئی مجھے یہ کہہ دے کہ میں اس کی جوتی پھر الا یا ہوں۔آخر نوکر مسجد میں آیا اور وہاں سے جو تا بدل کرلے گیا۔تو بعض لوگ اس وہم کی وجہ سے نماز نہیں پڑھا کرتے کہ شاید ان کے کپڑے صاف نہیں۔حالانکہ یہ کوئی معقول عذر نہیں۔پھر امراء کا میں کیا کیا عیب گنواؤں ان کے لئے تو روزہ رکھنا بھی بڑی مشکل چیز ہے۔کہتے ہیں کوئی امیر آدمی تھا اس نے ایک دن کسی مولوی کے وعظ سے متاثر ہو کر روزہ رکھ لیا مگر ابھی ظہر ہی ہوئی تھی کہ وہ بھوک کے مارے مرنے لگا۔بھلا ایک دن میں جنہیں ہیں بیس مرتبہ کھانے کی عادت ہو وہ کس طرح صبر کر سکتے ہیں۔آخر تنگ آکر اس نے نوکر کو آواز دی اور کہا کہ دیکھو شام کی اذان ہوئی ہے یا نہیں۔اس نے کہا حضور ا بھی شام کہاں ابھی تو سورج نصف النہار پر کھڑا ہے۔کہنے لگا پھر تو میری موت آگئی۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر نوکر کو آواز دی اور کہا دیکھنا مغرب کی اذان تو نہیں ہوئی۔اس نے کہا ابھی تو مغرب میں بہت دیر ہے۔کہنے لگا اچھا ملا کو بلاؤ۔ملا آیا تو کہنے لگا روزہ کس وقت کھولا جاتا ہے۔اس نے کہا شام کے وقت۔وہ کہنے لگا پھر میرا کیا بنے گا میں تو اس وقت تک مر جاؤں گا۔مُلّا نے کہا پھر میں کیا کر سکتا ہوں۔اس نے کہا اچھا یہ بتاؤ اگر میں روزہ توڑ دوں تو میرے لئے کیا سزا ہے۔اس نے کہا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔وہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا اس مُلا کو انعام دو