خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 374

$1940 373 خطبات محمود تو اب جس روز اس کا بخار اترے گا اسی روز اس کے لئے روزہ رکھنا فرض نہیں ہو جائے گا بلکہ جب بخار سے پیدا شدہ کمزوری دور ہو جائے گی تو اس وقت اس کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہو گا لیکن جو بلوغت سے پہلے کا زمانہ ہوتا ہے اور جسے نیم بلوغت کا زمانہ کہا جاسکتا ہے اس میں انسان کبھی کبھی روزہ چھوڑ بھی سکتا ہے تا اس کی طاقتیں اس قدر نشو و نما حاصل کر لیں کہ بعد کی زندگی میں اسے کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔اسی لئے میں نے اس خطبہ میں کہا تھا کہ بچوں کو گیارہ بارہ اور تیرہ سال کی عمر سے کچھ نہ کچھ روزے رکھوانے شروع کر دینے چاہئیں کیونکہ اگر کوئی شخص 18 سال تک ایک روزہ بھی نہیں رکھے گا تو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکے گی کہ وہ انیسویں سال رمضان کے سارے روزے رکھ لے۔بھلا جس شخص نے اٹھارہ سال تک کوئی روزہ نہیں رکھا اس کے اندر انیسویں سال ایسی طاقت کہاں سے آ جائے گی کہ وہ سارے روزے رکھنے شروع کر دے گا۔اس کی صورت یہی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ بیس بائیس یا پچھیں، چھیں روزے رکھے اور انیسویں سال سارے روزے رکھ لے۔ہاں اگر کوئی بہت زیادہ کمزور ہو جیسے خلقی طور پر بعض بچے اچھے قوی لے کر نہیں آتے وہ اگر انہیں سال سے پہلے پندرہ سولہ یا سترہ اٹھارہ روزے بھی رکھ لیتے ہیں اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو یہ ان کے لئے جائز ہو گالیکن عام طور پر ایسے کمزور بچے نہیں ہوتے۔خلقی طور پر کمزور اور بیمار بچے بہت کم ہوتے ہیں اور بالعموم پندرہ سولہ سال کے بعد بچوں میں اچھی خاصی طاقت آجاتی ہے۔تاہم اس عمر میں سب بچوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ لازمی طور پر تمام روزے رکھیں اور کسی ایک روزہ کو بھی ترک نہ کریں درست نہیں اور اسی بات سے میں نے دوستوں کو منع کیا تھا کیونکہ اس طرح اعضاء اور قوتوں کا نشو و نمارُک جائے گا۔اور جب کسی کی طاقتیں کمزور ہو جائیں گی تو آئندہ عمر میں اسے سارے روزے چھوڑنے پڑیں گے۔لیکن یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں۔دنیا میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو گو چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں مگر ان کی طاقتیں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ تمام روزے رکھ سکتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر پندرہ سال کے تھے جب انہوں نے رسول کریم صلی لی لی۔عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں سارا سال روزے رکھتا چلا جاؤں۔