خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 325

$1940 324 خطبات محمود نے چوری کی ہے۔اگر یہ الزام سچ ہو تو بھائی جی کے یہ کہنے کے معنے گویا یہ ہوئے کہ منارے والا نَعُوذُ بالله چوریاں کرواتا تھا اور اگر یہ نہیں تو پھر اس کے لئے یہ بار کس طرح اٹھایا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خاطر اس میں کیا بات تھی۔یہ فرض کر لو کہ امور عامہ سے بے احتیاطی ہوئی مگر کیا اس نے یہ اس لئے کہا کہ بھائی جی صحابی تھے ؟ ہر گز نہیں۔بھائی جی خود بھی یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ اس بے احتیاطی کی وجہ یہ تھی کہ ناظر امور عامہ کٹر احراری تھے اور چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی کی بے عزتی ہو۔اپنے انتہائی غصہ کے باوجو د بھائی جی یہ بات نہیں کہہ سکتے۔پس یہ ان کی غلطی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کے مظاہرہ کی ذمہ داری ان پر ہے۔اگر وہ ایسے ذمہ داری کے مقام پر ہوتے ہوئے یہ شعر نہ پڑھتے پھرتے تو آج کا مظاہرہ نہ ہوتا۔ہم ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی نوجوانوں کے لئے نمونہ ہیں جس کی انہیں پیروی کرنی چاہیے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور میرا نام وضاحت سے گونہ لیا تھا مگر آج کا مظاہرہ کرنے والے نے لیا۔پس جہاں مجھے افسوس ہے کہ ایسے صحابی کا جس نے بڑی خدمات کا موقع پایا اور جس کی ہتک کو میں اپنی ہتک سمجھتا ہوں مناسب عزت قائم نہ کی جاسکی۔وہاں مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ بھائی جی اس ابتلاء سے بے داغ نہ نکل سکے۔اگر ان کی تلاشی ہوئی تو کیا تھا؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تلاشی نہ ہوئی تھی؟ ان کو چاہیے تھا کہ ہنستے ہوئے اس واقعہ پر سے گزر جاتے۔ان کو شکایت لے کر میرے پاس آنا بھی نہ چاہیئے تھا۔وہ دوسرے دن میرے پاس آئے حالانکہ میں اس وقت تمام تحقیقات کر چکا تھا۔انہوں نے آکر خود اپنی سبکی کرائی۔جو بات میں ان کے آنے سے بھی پہلے کر چکا تھا اس کے لئے انہیں آنے کی کیا ضرورت تھی۔اپنے مقام کے لحاظ سے انہیں اس بات کے لئے میرے پاس آنا بھی نہ چاہیئے تھا۔اور خد اتعالیٰ پر توکل کرنا چاہیئے تھا۔ان کی شان یہ تھی کہ دل میں بھی اس بات کا کوئی احساس نہ کرتے اور لب پر ذکر تک نہ لاتے۔اگر ان کے بیٹے سے ایسا فعل ہو ا تو کیا اس سے ان کی عزت میں کوئی فرق آ سکتا ہے؟ اور اگر نہیں ہوا تو ان کی عزت اور بھی بڑھ جاتی۔رسول کریم صلی ال نیم کے عشرہ مبشرہ میں سے ایک کا لڑکا امام حسین کا قاتل تھا۔ان کے بیٹے