خطبات محمود (جلد 21) — Page 324
$1940 323 خطبات محمود احتیاط نہ برتی جائے جو صحابہ کے متعلق برتی جانی چاہیئے۔میں تو وہ شخص ہوں کہ جن لوگوں نے اپنے فعل سے اپنے آپ کو صحابیت سے خارج کر لیا ان کے خلاف بھی میں نے کبھی کسی کو کوئی کام نہیں کرنے دیا۔مولوی محمد علی صاحب یہاں سے جاتے ہوئے قریباً تین ہزار کی کتابیں لے گئے۔قاضی امیر حسین صاحب مرحوم میرے پاس آئے کہ ان کو روکنا چاہیے مگر میں نے کہا کہ میں ان کو روکنا نہیں چاہتا۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ بعض بچے آپس میں کہہ رہے تھے کہ آؤ ان پر کنکریاں پھینکیں اور میں نے ان کو سختی سے ڈانٹا اور مولوی صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں میں ذمہ دار ہوں کہ کوئی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکے گا اور اگر کوئی کچھ کہے تو میں ہر سزا کے لئے تیار ہوں۔گو بعد میں اس واقعہ کو بہت رنگ آمیزی سے پیش کیا جاتا رہا اور کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہی ہے۔تو جن لوگوں نے اپنے فعل سے اپنے آپ کو صحابیت سے خارج کر لیا میں آج تک ان کا بھی احترام کرتا ہوں۔ان کی طرف سے مجھ پر گندے سے گندے الزامات لگائے گئے۔ان کے اور ان کے ساتھیوں کے متعلق میرے پاس بھی ایسی روایات پہنچیں مگر میں نے ان کی اشاعت کو کبھی پسند نہیں کیا۔پس اگر ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی عزت کو قائم کرنا ہمارا فرض ہے اور وہ کی جائے گی۔دشمن ان باتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ یہاں کے ہندوؤں نے رات کے وقت ایک ہندو لڑکے کو بھائی جی کے لڑکے کے پاس بھجوایا کہ آپ لوگوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے۔اگر آپ واقعات بتائیں تو ہم ہندو اخبارات میں چھپوا دیں گے۔بھائی جی کا بیان یہ تھا کہ صبح ہی انہوں نے آکر مجھے کہا کہ رات ہمارے ہاں شیطان آیا تھا۔ان کی یہ باتیں ایک اچھا نمونہ تھا مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کا سارا نمونہ اچھانہ تھا۔اگر وہ اس ابتلاء سے بے داغ نکلتے تو مجھے بڑی خوشی ہوتی مگر افسوس ہے کہ وہ بے داغ نہ نکلے۔مجھے متعدد رپورٹیں پہنچی ہیں کہ وہ راتوں کو گلی کوچوں میں یہ شور کرتے پھرے کہ اے منارے والے ! ہم نے تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہے۔ان کا یہ فعل بہت ہی ناجائز ہے۔کیا ان کی یہ تلاشی اس وجہ سے ہوئی ہے کہ وہ احمدی تھے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ منارے والے کی خاطر کس طرح ہوا؟ کسی نے جھوٹ یا سچ یہ الزام لگایا کہ ان کے لڑکے