خطبات محمود (جلد 21) — Page 302
$1940 301 خطبات محمود کہ ایک جرمن قیدی ایسا ہے کہ نہ اسے کشتی میں جگہ ملی ہے اور نہ اس کے پاس بیٹی ہے۔اس افسر نے اپنی پیٹی اسے دے دی اور خود جا کر کپتان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔جہاز غرق ہوا اور وہ بھی کپتان کے ساتھ غرق ہو گیا۔گویا اس نے دشمن کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دے دی۔ہم ایسے واقعات کو آج اس لئے حیرت سے پڑھتے ہیں کہ اس زمانہ کے مسلمانوں میں ایمان کی وہ شان نہیں رہی جو پہلے زمانہ کے مسلمانوں کی تھی۔اس لئے ان میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں ورنہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں ایسی ایسی شاندار مثالیں ملتی ہیں کہ یہ واقعات ان کے آگے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں مسلمانوں نے دشمن کو شکست دی سخت گرمی کا موسم تھا۔مقابلہ بڑے معرکہ کا تھا۔ایک ایک مسلمان کو دو دو سو کا مقابلہ کرنا پڑا تھا۔اس لئے بعض مسلمان چور ہو کر گر گئے تھے۔ایک شخص وہاں پہنچا اس نے ایک صحابی کو دیکھا کہ زخمی پڑے تھے ان کے ہونٹ خشک ہیں اور اس سے پوچھا کہ کیا پانی ہے؟ اس کے پاس چھاگل تھی اس نے اس میں سے پانی لیا اور ان کو دیا وہ پینے لگے تو دیکھا کہ تھوڑے فاصلہ پر ایک اور مسلمان پڑا تھا۔اس صحابی نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے اسے زیادہ پیاس ہے اس لئے پہلے اسے پلاؤ۔وہ پانی لے کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے ایک اور کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ پیاسا معلوم ہو تا ہے اس لئے پہلے اسے پلا دو اور اس طرح یہ سلسلہ دس آدمیوں تک پہنچا لیکن جب پانی والا دسویں آدمی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔اس پر وہ لوٹا اور جس جس کے پاس پہنچا وہ فوت ہو چکا تھا۔غور کرو یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔موت سامنے ہے، سانس رک رہا ہے اور شدید پیاس ہے مگر ہر ایک کی کوشش یہی ہے کہ پہلے میرا بھائی پانی پئے تو میں پھر پیوں۔مگر آج مسلمانوں کی یہ حالت نہیں۔ان کے پاس حکومت نہیں، نورِ ایمان نہیں، اس لئے ہمیں ایسی مثالیں کافروں میں سے دینی پڑتی ہیں اور یہ ہمارے لئے زیادہ غیرت کا موجب ہونی چاہئیں کہ جب کا فرایسی مثالیں پیش کرتے ہیں تو ہمارے نوجوانوں کو تو اس سے بہت زیادہ شاندار