خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 301

$1940 300 خطبات محمود جو ہمت و استقلال کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جنگ میں ایسے ایسے کارنامے کرتے ہیں کہ پڑھ کر حیرت آتی ہے۔پہلے بھی ایک واقعہ میں سنا چکا ہوں اب پھر اخباروں میں ایک واقعہ شائع ہوا ہے کہ ایک افسر سخت زخمی ہو گیا جہاں وہ پڑا تھا وہاں جرمن فوج کا قبضہ ہو چکا تھا۔اس کا ایک ماتحت افسر تلاش میں نکلا کہ تاوہ ملے تو اسے لے آئے۔اس نے اپنے ہیڈ کوارٹر میں فون کیا کہ میں اس کی تلاش میں جانا چاہتا ہوں ایک لاری بھیج دی جائے۔وہاں سے جواب آیا کہ ہم تمہیں ایسی خطرناک جگہ پر بھیج نہیں سکتے کیونکہ وہاں جانے میں نانوے فیصدی گمان مارے جانے یا کم سے کم قید ہونے کا تھا۔اس لئے اسے جواب دیا گیا کہ ہم حکم نہیں دیتے اپنی مرضی سے جانا چاہو تو چلے جاؤ۔اس نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے جانا چاہتا ہوں تا اگر ممکن ہو تو اپنے افسر کو بچا کر لے آؤں۔چنانچہ وہ لاری لے کر فوجی پہروں سے بچتا ہوا وہاں پہنچا اسے تلاش کر کے لاری پر ڈال لیا۔اور بھی دو چار زخمی مل گئے ان کو بھی اس نے ساتھ لے لیا اور بچ کر نکل آیا۔اس کا ایسے حالات میں اس جگہ جانا جہاں دشمن کا قبضہ ہو چکا تھا گویا یقینی طور پر موت کے منہ میں جانے کے مترادف تھا اور یہ محض اتفاق تھا کہ بیچ کر آگیا مگر اس شخص نے اس قربانی کے لئے خود اپنے آپ کو پیش کیا۔تو جنگ میں لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر رہے ہیں اور ایسے ایسے خطرات میں اپنے آپ کو ڈالتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اور روزانہ بیسیوں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔یہ مثالیں تو اپنوں کے لئے قربانی کی ہیں۔غیروں کے لئے قربانی کی بھی شاندار مثالیں ملتی ہیں۔حال ہی میں ایک واقعہ ہوا ہے۔ایک برطانوی جہاز جر من قیدیوں کو لے کر جارہا تھا کہ جرمنوں نے بے وقوفی سے اسے خود ہی غرق کر دیا۔تارپیڈو بوٹ نے اس پر حملہ کیا اور وہ غرق ہو گیا۔جن لوگوں کو کشتیوں پر جگہ مل سکی وہ تو سوار ہو گئے۔جہاز میں جو لوگ سوار ہوں ان کے پاس ایسی پیٹیاں بھی ہوتی ہیں جسے باندھ کر آدمی دو دو دن پانی پر تیر تا رہتا ہے اور اس اثناء میں ممکن ہوتا ہے کہ کوئی جہاز اسے آکر اٹھالے۔جن لوگوں کو کشتیوں میں جگہ نہ ملے وہ یہ بیٹیاں پہن لیتے ہیں۔اس جہاز کے ایک انگریز افسر نے دیکھا