خطبات محمود (جلد 21) — Page 29
1940 29 خطبات محمود زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا، خدا عزت و شوکت کو پیدا کرنے والا خدا، بادشاہوں کو گرا اور گداؤں کو بادشاہ بنانے والا خدا، حکومتوں کو قائم کرنے اور حکومتوں کو مٹانے والا خدا، دولتوں کے دینے اور دولتوں کو لے لینے والا خدا، رزق کے دینے اور رزق کو چھیننے والا خدا، زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ اور کائنات کا مالک خدا آواز دیتا ہے ایک کمزور ناتوان اور نحیف انسان کو کہ میں مد د کا محتاج ہوں میری مدد کرو۔تو وہ کمزور اور ناتوان اور نحیف بندہ عقل سے کام نہیں لیتا وہ یہ نہیں کہتا کہ حضور کیا فرمارہے ہیں ؟ کیا حضور مدد کے محتاج ہیں؟ حضور تو زمین و آسمان کے بادشاہ ہیں۔میں کنگال، غریب اور کمزور آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ وہ یہ نہیں کہتا بلکہ وہ نحیف و نزار اور کمزور جسم کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔کون ہے جو ان جذبات کی گہرائیوں کا اندازہ کر سکتا ہے ؟ سوائے اس کے جسے محبت کی چاشنی سے تھوڑا بہت حصہ ملا ہو۔آج سے پچاس سال پہلے اسی خدا نے پھر یہ آواز بلند کی اور قادیان کے گوشئہ تنہائی میں پڑے ہوئے ایک انسان سے کہا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔مجھے دنیا میں ذلیل کر دیا گیا ہے، میری دنیا میں کوئی عزت نہیں، میرا دنیا میں کوئی نام لیوا نہیں، میں بے یار ومدد گار ہوں اے میرے بندے میری مدد کر۔اس نے یہ نہیں سوچا کہ کہنے والا کون ہے اور جس سے خطاب کیا جاتا ہے وہ کون ہے۔اس کی عقل نے یہ نہیں کہا کہ مجھے بلانے والے کے پاس تمام طاقتیں ہیں میں بھلا اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ اس کی محبت نے اس کے دل میں ایک آگ لگا دی اور وہ دیوانہ وار جوش میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا میرے رب ! میں حاضر ہوں۔میرے رب میں حاضر ہوں، میرے رب میں بچاؤں گا، میرے رب ! میں بچاؤں گا۔یہی تو وہ ساعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شهر - 6 اس رات پر ہزاروں راتیں قربان ہیں اور چونکہ بار بار ایسی راتیں آجاتی ہیں اس لئے خدا نے خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرِ کہا۔ورنہ اگر ایک ہی رات ہوتی تو دنیا کی ساری راتیں اس ایک رات، اس ایک گھنٹے ، اس ایک منٹ اور اس ایک سیکنڈ پر قربان کی جاسکتی ہیں۔جب ایک کمزور بندہ اپنی محبت کے جوش میں بغیر سوچے سمجھے اور بغیر عواقب پر غور کئے تلوار لے کر کھڑا ہو جاتا