خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 27

1940 27 خطبات محمود آنے پر میں نے زمین کو کھود کر اس میں سے تھیلی نکالی اور اب یہ تینوں چیزیں حاضر ہیں۔فرمائیے آپ کا کیا ارشاد ہے ؟ دنیا کی زبان میں یہ دوستی کی نہایت ہی شاندار مثال ہے اور انسان ایسے جذبات کو دیکھ کر بغیر اس کے کہ وہ اپنے دل میں شدید ہیجان محسوس کرے نہیں رہ سکتا۔مگر اس دوستی کا اظہار اس دوستی کے مقابلہ میں کچھ بھی تو نہیں جو نبی اپنے خدا کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔وہاں قدم قدم پر مشکلات ہوتی ہیں۔وہاں قدم قدم پر قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں اور وہاں قدم قدم پر مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔پس نبیوں کا جواب اپنے خدا کو ویسا ہی ہو تا ہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر جیسے اس غریب آدمی نے امیر آدمی کو دیا۔بیشک اگر ہم معقولات کی نظر سے اس کو دیکھیں اور منطقی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کریں تو اس غریب آدمی کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ اس امیر کے ہزاروں نوکر چاکر تھے۔ان کے ہوتے ہوئے اس کی بیوی نے کیا زائد خدمت کر لینی تھی؟ اسی طرح وہ لاکھوں کا مالک تھا اس کو سو ڈیڑھ سو روپیہ کی تحصیلی کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی؟ اور خود اس کے کئی پہرہ دار اور محافظ تھے اس کو اس دوست کی تلوار کیا نفع پہنچا سکتی تھی ؟ مگر محبت کے جوش میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ میری تلوار کیا کام دے گی، میرا تھوڑا سا روپیہ کیا فائدہ دے گا اور میری بیوی کیا خدمت سر انجام دے سکے گی؟ اس نے اتنا ہی سوچا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ مجھے حاضر کر دینا چاہئے۔ایسے ہی بے وقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں۔مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنے زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک رات ہم سب صحن میں سو رہے تھے گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گر جنے لگا۔اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گری ہے۔ہمارے مدرسہ میں ہی ایک واقعہ ہوا جس کو یاد کر کے لڑکے مدتوں ہنستے رہے اور وہ یہ کہ فخر دین ملتانی جو