خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 249

1940 249 خطبات محمود صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ کبھی تم ان کا نقصان کر دیتے ہو اور کبھی وہ تمہارا نقصان کر دیتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ تمہارے لئے کامیابی مقدر ہے مگر کفار کے لئے کامیابی مقدر نہیں۔تم نقصان کے باوجو د بڑھتے چلے جاؤ گے اور ان کا نہ صرف نقصان ہو گا بلکہ وہ اور زیادہ گھٹتے چلے جائیں گے۔12 پھر میں نے بتایا ہے کہ اگر اسی اصول کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ قبولیتِ دعا کا دعویٰ وہی شخص کر سکتا ہے جس کی کوئی دعا بھی قبول ہونے سے نہ رہے تو اس کی زد حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی پڑتی ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ کو قبولیت دعا کا نشان بخشا گیا ہے آپ کی چار دعائیں قبول نہ ہوئیں۔مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق آپ نے دعا کی اور وہ قبول نہ ہوئی، بشیر اول کے متعلق آپ نے دعا کی اور وہ قبول نہ ہوئی، آتھم کے متعلق آپ نے دعا کی اور وہ قبول نہ ہوئی، مبارک احمد کے متعلق آپ نے دعا کی اور وہ قبول نہ ہوئی۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چالیس اور ایسی دعائیں بتاتا ہوں جو گو ہمارے نزدیک قبول ہوئیں اور انشاء اللہ قبول ہوں گی مگر اس ٹریکٹ کے لکھنے والے اور اس کے استاد مصری اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک قبول نہیں ہوئیں۔اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کا دعویٰ یہ ہے کہ میں ( نَعُوذُ بالله ) دھوکے باز ہوں، میں جھوٹ بولتا ہوں، میں فریب کرتا ہوں اور میں ہدایت سے محروم ہوں۔چنانچہ وہ اپنے ٹریکٹ کے آخر میں مجھے مباہلہ کا چیلنج دیتا ہے اور مباہلہ کا چیلنج اسی کو دیا جاتا ہے جو ہدایت سے محروم ہو۔پس اگر یہ صحیح ہے کہ میں ہدایت سے محروم اور ضلالت میں گرفتار ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چالیس دعائیں اس کے اپنے دعویٰ کے مطابق ( نَعُوذُ بِالله ) خدا تعالیٰ نے رڈ کر دیں اور وہ قبولیت کا شرف نہیں پاسکیں۔یہ دعائیں دونوں آمینوں میں درج ہیں۔(1) پہلی دعا جو بقول ان کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رڈ ہوئی وہ یہ ہے “ دے ان کو دین و دولت ”۔دولت کو تم جانے دو کیونکہ اصل چیز دین ہے لیکن دین ہی وہ چیز ہے جو اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کے قول کے مطابق ہمیں نہیں ملا بلکہ ہم اس قابل ہیں کہ ہم سے مباہلہ