خطبات محمود (جلد 21) — Page 246
$1940 246 خطبات محمود بعض دفعہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک گھوڑے کے چوری ہونے پر بھی کسی کو دعا کی ضرورت محسوس ہو۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی ساری پونجی گھوڑا ہی ہو ایسی حالت میں اگر وہ گھوڑے کے لئے دعا کرتا ہے تو جائز ہو گا۔یا کوئی اور شخص ہے جس نے جہاد کے لئے گھوڑا رکھا ہوا ہے اور وہی گھوڑا چور چرا کر لے جاتے ہیں تو ایسی حالت میں اگر وہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرا گھوڑا مجھے مل جائے تو یہ بالکل جائز ہو گا کیونکہ اگر نہ ملے تو وہ جہاد سے محروم رہتا ہے۔مگر میں نے وہ گھوڑے کون سے جہاد کے لئے رکھے ہوئے تھے کہ میں ان کے گم ہو جانے پر دعا کرتا کہ وہ مجھے مل جائیں۔وہ میرے لئے قطعاً کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے بلکہ ایک تو سویا سوا سو روپیہ کا تھا جو میں نے خود خرید ا تھا اور دوسری گھوڑی تھی جو ایک دوست مجھے بطور تحفہ دے گئے تھے۔بہر حال میرے لئے ان کا چوری چلے جانا کوئی زیادہ اہم نہ تھا۔پھر یہ کہنا کہ الٹاوہ بھونگے کی رقم بھی لے کر کھا گئے یہ بھی درست نہیں۔پولیس نے چوروں کو پکڑ لیا تھا پھر بھنگا دینے کے کیا معنی ؟ اور وہ ان کو گرفتار کر کے قادیان لے آئے تھے۔دو تین دن بعد انہوں نے مجھ سے کہا یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ ان کو چھوڑ دیں تو یہ گھوڑے آپ کو واپس کر دیں گے۔میں نے سمجھا کہ پولیس کو رشوت کی تو عادت ہوتی ہے انہوں نے کچھ کھالیا ہو گا اور یہ خود ایک سزا ہے جو ان چوروں کو مل گئی ہے اس لئے میں نے کہہ دیا کہ اچھا چھوڑ دو اور مجھ سے دراصل وہ اسی لئے کہلوانا چاہتے تھے کہ وہ ڈرتے تھے کہ بطور خود چھوڑا تو یہ افسروں سے شکایت کریں گے۔اب ان کے لئے صرف یہی صورت تھی کہ میری زبان سے کوئی فقرہ نکلوا کر انہیں چھوڑ دیں۔چنانچہ وہ چھوٹ کر چلے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑا۔چنانچہ وہ لوگ جوان کے ناموں سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ وہی لوگ جنہوں نے میرے گھوڑے چرائے تھے ایک اور مجرم میں پکڑے گئے اور ان پر مقدمہ چلا۔ڈپٹی کمشنر جو انگریز تھا اسے کسی نے بتا دیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کے گھوڑے چرائے تھے۔اس نے فیصلہ کرتے ہوئے لکھا کہ میں تمہیں صرف دو دو سال قید کی سزا دینا چاہتا تھا مگر چونکہ تم نے مرزا صاحب کے گھوڑے چرائے تھے اور پھر واپس نہیں کئے اس لئے میں تمہیں پانچ پانچ سال قید کی سزا دیتا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انہیں سزا ملی وہ الگ ہے۔ان میں سے ایک کی بیوی